مواد پر جائیں
وضاحتی رپورٹتصدیق شدہ

سمندر کا پانی نمکین کیوں ہے جبکہ بارش اور دریا کا پانی میٹھا ہوتا ہے؟

بارش چٹانوں سے انتہائی معمولی مقدار میں معدنیات گھول کر دریاؤں تک لاتی ہے، دریا انہیں سمندر میں پہنچاتے ہیں اور بخارات پانی کو واپس لے جاتے ہیں مگر نمک پیچھے رہ جاتا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

شیئر
ای میل

اگر آپ ایک گلاس سمندری پانی پی لیں تو اس کا نمک فوراً محسوس ہو جاتا ہے، لیکن یہی سمندر بارش، برف اور دریاؤں کے پانی سے بھرتا ہے جو عام طور پر نمکین محسوس نہیں ہوتے۔ پھر سوال یہ ہے کہ اگر دریا میٹھے ہیں تو سمندر اتنا نمکین کہاں سے ہوا؟

اس کہانی کا آغاز خشکی کی چٹانوں سے ہوتا ہے۔ بارش کا پانی فضا سے گزرتے ہوئے اور زمین پر آتے ہوئے معمولی طور پر acidic ہو سکتا ہے۔ جب یہ پانی چٹانوں، پہاڑوں اور مٹی پر بہتا ہے تو بہت آہستہ آہستہ ان میں موجود معدنیات کو توڑتا اور گھولتا ہے۔ یہ عمل ہماری آنکھ کے سامنے ایک دن میں محسوس نہیں ہوتا، لیکن لاکھوں اور کروڑوں سال میں اس کا مجموعی اثر بہت بڑا ہو جاتا ہے۔

ان چٹانوں سے نکلنے والے dissolved ions ندی نالوں اور دریاؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ دریا انہیں اپنے ساتھ سمندر تک لے جاتے ہیں۔ دریائی پانی میں بھی نمکیات موجود ہوتے ہیں، مگر مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ پانی ہمیں نمکین محسوس نہیں ہوتا۔ دوسری طرف سمندر ایک بہت بڑا reservoir ہے جہاں یہ dissolved minerals طویل عرصے تک جمع ہوتے رہے ہیں۔

NOAA کے مطابق سمندری نمک کے دو بڑے قدرتی ذرائع ہیں: خشکی سے آنے والا runoff اور سمندر کی تہہ میں موجود geological openings۔ خشکی کا weathering اور erosion اہم ذریعہ ہے، جبکہ seafloor کے hydrothermal vents بھی سمندری پانی کی chemistry بدلتے ہیں۔

سمندر کی تہہ میں بعض جگہوں پر پانی چٹانوں کی دراڑوں کے اندر داخل ہوتا ہے۔ زمین کے اندر حرارت کے قریب پہنچ کر یہ پانی گرم ہوتا ہے اور surrounding rocks کے ساتھ chemical reactions کرتا ہے۔ پھر گرم پانی vents سے واپس سمندر میں نکلتا ہے، اپنے ساتھ مختلف معدنی اجزا اور دھاتیں لاتا ہے۔ زیرِ سمندر آتش فشانی سرگرمی بھی کچھ minerals براہ راست سمندر میں شامل کر سکتی ہے۔

اب ایک اور سوال: اگر دریا مسلسل نمک لا رہے ہیں تو سمندر ہر سال زیادہ سے زیادہ نمکین کیوں نہیں ہوتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سمندر میں salts صرف داخل نہیں ہوتے، مختلف عمل انہیں باہر بھی نکالتے ہیں۔ کچھ ions سمندری جاندار استعمال کر لیتے ہیں، کچھ sediments میں بند ہو جاتے ہیں، کچھ chemical reactions کے ذریعے ocean floor میں شامل ہوتے ہیں۔ NOAA کے مطابق آج کے سمندر میں salt input اور removal بڑی حد تک ایک طویل مدتی توازن میں سمجھے جاتے ہیں۔

سمندری پانی میں ہر قسم کے نمکیات یکساں مقدار میں نہیں ہوتے۔ sodium اور chloride سب سے نمایاں ions ہیں اور عام table salt بھی انہی دونوں عناصر، sodium chloride، سے بنتا ہے۔ NOAA کے مطابق sodium اور chloride مل کر سمندر میں موجود dissolved ions کا تقریباً 85 فیصد بناتے ہیں، جبکہ magnesium اور sulfate ایک اور بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں۔

اوسط سمندری salinity تقریباً 35 parts per thousand ہے۔ سادہ الفاظ میں تقریباً 3.5 فیصد سمندری پانی کا وزن dissolved salts سے آتا ہے۔ یہ پوری دنیا میں یکساں نہیں۔ جہاں پانی زیادہ evaporate ہوتا ہے اور بارش کم ہوتی ہے وہاں salinity بڑھ سکتی ہے۔ جہاں بہت زیادہ بارش ہو، دریا بڑی مقدار میں freshwater لائیں یا برف پگلے وہاں سطحی پانی نسبتاً کم نمکین ہو سکتا ہے۔

بخارات اس کہانی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ سورج سمندر سے پانی evaporate کرتا ہے، مگر نمک عام طور پر بخارات کے ساتھ نہیں جاتا۔ تقریباً خالص water molecules فضا میں چلے جاتے ہیں اور dissolved salts پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پھر یہی پانی بادل، بارش یا برف کی شکل میں زمین پر واپس آتا ہے، چٹانوں پر بہتا ہے اور ایک بار پھر معمولی مقدار میں minerals لے کر سمندر کی طرف سفر شروع کر دیتا ہے۔

یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ دریا واقعی مکمل طور پر نمک سے خالی نہیں ہوتے۔ ان میں dissolved salts ہوتے ہیں، لیکن سمندر کے مقابلے میں بہت کم۔ دریا continuously replenish ہوتے رہتے ہیں؛ بارش اور برف کا تازہ پانی ان کے dissolved minerals کو dilute کرتا رہتا ہے۔ سمندر میں پانی کا residence time اور evaporation کا مسلسل عمل salts کو کہیں زیادہ concentrated رکھتا ہے۔

سمندر کا نمکین ہونا زمین کے climate system اور ocean circulation کے لیے بھی اہم ہے۔ پانی کی salinity اس کی density پر اثر ڈالتی ہے۔ temperature اور salinity مل کر سمندری پانی کے ڈوبنے، اوپر آنے اور بڑے ocean currents کے patterns پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ currents دنیا کے مختلف علاقوں میں حرارت منتقل کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

نمک صرف ذائقے کا معاملہ نہیں۔ سمندر کی chemistry marine organisms، coral reefs، fisheries اور carbon cycle تک کئی نظاموں سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان salinity کو temperature کے ساتھ سمندری مشاہدات میں ایک بنیادی پیمانہ سمجھتے ہیں۔

اگر زمین کے تمام دریاؤں کا پانی بظاہر میٹھا ہے تو سمندر کی نمکیات کوئی ایک اچانک واقعہ نہیں، بلکہ ایک انتہائی طویل geological story ہے: بارش چٹانوں کو گھلاتی ہے، دریا minerals لے جاتے ہیں، سمندر انہیں جمع کرتا ہے، سورج پانی اڑا دیتا ہے اور نمک پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہی چھوٹا سا چکر اربوں سال کی زمین پر ایک بہت بڑے نمکین سمندر کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

ماخذ: NOAA Ocean Service — Why is the ocean salty? اور Why is the ocean salty, but rivers flowing into it are not?

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/explainer-why-ocean-water-is-salty-2026-09-20?lang=ur

ماخذ: https://oceanservice.noaa.gov/facts/whysalty.html

اگلا قدم

دنیا کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔