مواد پر جائیں
تصدیق شدہ

فرانس میں طلبہ کے احتجاج میں شدت، تقریباً 6,900 گرفتاریاں؛ پولیس کارروائیوں پر تحقیقات

فرانس میں اساتذہ کی کمی اور تعلیمی اداروں کی خستہ حالی کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران 9 اکتوبر تک تقریباً 6,900 افراد گرفتار یا پولیس حراست میں لیے گئے، جن میں اکثریت کم عمر طلبہ کی ہے۔ پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

3 منٹ مطالعہ

پیرس، 10 اکتوبر 2026: فرانس میں تعلیمی اداروں کے محدود وسائل، اساتذہ کی کمی اور خراب عمارتوں کے خلاف اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی ہے۔ ملک کے متعدد شہروں میں مظاہروں، اسکولوں کی بندش اور پولیس کی کارروائیوں کے بعد ہزاروں نوجوان گرفتار یا پولیس حراست میں لیے گئے ہیں۔

فرانس کی وزارتِ انصاف کے 9 اکتوبر کو سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق تحریک کے آغاز سے 8 اکتوبر تک تقریباً چھ ہزار نو سو افراد گرفتار یا پولیس حراست میں لیے گئے۔ فرانسیسی اخبار لی موند کے مطابق یہ تعداد 6,877 تھی، جبکہ حراست میں لیے گئے افراد میں تقریباً 86 فیصد کم عمر تھے۔ یہ مجموعی تعداد کئی ہفتوں کی کارروائیوں کی ہے، ایک دن کی گرفتاریوں کی نہیں۔

ہسپانوی خبر رساں ادارے ای ایف ای کے مطابق تقریباً 2,376 افراد کے خلاف عدالتی کارروائی شروع کی گئی، 1,547 افراد کو جج کے سامنے پیش کیا گیا اور 21 کو مقدمات کی سماعت سے پہلے حراست میں رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ پولیس حراست میں لیے جانے یا گرفتار ہونے کو جرم ثابت ہونے کے برابر نہیں سمجھا جاسکتا۔

احتجاج کا آغاز ستمبر کے اواخر میں ثانوی اسکولوں کے طلبہ کی جانب سے ہوا تھا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں تدریسی عملے کی کمی، حد سے زیادہ بھرے ہوئے کمروں، ٹوٹی ہوئی عمارتوں، ناکافی تدریسی وسائل اور غیر مساوی تعلیمی مواقع نے ان کی پڑھائی متاثر کی ہے۔ فرانس کے غریب مضافاتی علاقوں میں یہ مشکلات خاص طور پر نمایاں ہیں۔

6 اکتوبر کو طلبہ، اساتذہ اور مزدور تنظیموں کی مشترکہ احتجاجی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔ کئی شہروں میں مظاہرے پرامن رہے، تاہم بعض مقامات پر توڑ پھوڑ، آگ لگانے، پولیس پر اشیا پھینکنے اور جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پولیس نے مختلف مقامات پر آنسو گیس، لاٹھیوں اور دیگر ہجوم منتشر کرنے والے آلات کا استعمال کیا۔

مظاہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے پولیس پر غیر متناسب طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ روئٹرز کی 10 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پولیس کی داخلی نگرانی کا ادارہ آئی جی پی این 24 واقعات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ ان میں کم عمر طلبہ کے شدید زخمی ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ لینس شہر میں ایک پندرہ سالہ طالب علم کے ہاتھ کے ضائع ہونے کے بعد حکام نے ان مظاہروں میں مخصوص سٹن گرینیڈ کے استعمال کو عارضی طور پر روک دیا۔

دوسری جانب حکومت اور پولیس نمائندوں کا کہنا ہے کہ کچھ احتجاجی سرگرمیوں میں تشدد اور املاک کو نقصان پہنچا، جس سے پولیس اہلکار اور تعلیمی عملہ بھی زخمی ہوئے۔ حکومت کے مطابق اسے طلبہ کی شکایات کا علم ہے اور تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے عملی اقدامات زیرِ غور ہیں۔

وزیر تعلیم ایڈوارڈ ژفری نے سب سے زیادہ متاثرہ اسکولوں میں تقریباً تین ہزار متبادل اساتذہ فراہم کرنے کی بات کی ہے، جبکہ وزیراعظم سباستیان لوکورنو نے اکتوبر کے اختتام تک مسائل سے نمٹنے کے لیے مزید منصوبہ پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ طالب علموں کی تنظیمیں ان اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تعلیمی بجٹ، سہولتوں اور مستقل تدریسی عملے میں اضافے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

فرانس میں جاری یہ احتجاج تعلیمی سہولتوں، شہری آزادیوں اور مظاہروں کے دوران پولیس کے اختیارات کے بارے میں وسیع بحث کا سبب بن گیا ہے۔ ناقدین گرفتاریوں کی بڑی تعداد اور کم عمر افراد کے ساتھ برتاؤ پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ حکام امن و امان برقرار رکھنے اور تشدد روکنے کی ذمہ داری پر زور دیتے ہیں۔ احتجاج کی آئندہ صورت حال اور پولیس کے خلاف شکایات کی تحقیقات کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/france-student-protests-nearly-6900-detentions-police-response-2026-10-10?lang=ur