مواد پر جائیں
زیرِ پیش رفت

ریاض کے شاہ خالد ایئرپورٹ پر نیا دھماکا، ٹرمینل 3 پر میزائل حملے کی رپورٹ؛ 225 سے زائد پروازیں منسوخ

ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر 10 اکتوبر کو زور دار دھماکے کے بعد مسافروں کو نکالا گیا۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمینل 3 نشانہ بنا، جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس نے 24 گھنٹوں میں 225 سے زیادہ پروازوں کی منسوخی رپورٹ کی۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

ریاض، 10 اکتوبر 2026: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کو ایک زور دار دھماکے کے بعد مسافروں کو عمارت سے نکالا گیا، جبکہ پروازوں کا نظام دوبارہ شدید متاثر ہوا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں نے بتایا ہے کہ یہ واقعہ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں حالیہ اضافے کے دوران پیش آیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک عینی شاہد اور صورت حال سے آگاہ افراد کے حوالے سے ایئرپورٹ پر دھماکے کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسافروں کو نکالنے کے ساتھ امدادی گاڑیاں بھی جائے وقوعہ کی جانب روانہ کی گئیں اور ایک مرحلے پر ریاض آنے والی پروازوں کو منسوخ یا دوسرے ہوائی اڈوں کی طرف موڑا گیا۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ میزائل حملے میں شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کا ٹرمینل نمبر 3 نشانہ بنا، جس کے بعد وہاں سے مسافروں کا انخلا ہوا اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ تاہم اس تازہ واقعے میں نقصان اور زخمیوں کی حتمی تعداد سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سکیورٹی خدشات اور فضائی آمدورفت میں تعطل کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں میں 225 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں۔ اس عدد کا تعلق گزشتہ 24 گھنٹوں کی مجموعی صورتحال سے ہے؛ اسے صرف ہفتے کے تازہ دھماکے کے بعد منسوخ ہونے والی پروازوں کی الگ تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔

اتحاد ایئرویز، قطر ایئرویز اور دیگر فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے متعدد پروازیں معطل یا منسوخ کی ہیں۔ بعض فضائی کمپنیوں کی پابندیاں پیر تک برقرار رہنے کی اطلاعات ہیں۔ ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے مسافروں سے کہا ہے کہ روانگی سے قبل اپنی فضائی کمپنی سے پرواز کی تازہ صورت حال معلوم کریں۔

جمعرات کو ریاض کے اسی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں میں سعودی حکام کے مطابق تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جبکہ سعودی ایئرلائن کے ایک طیارے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔ یہ گزشتہ حملوں کے نقصانات ہیں، ہفتے کے نئے دھماکے کی مصدقہ ہلاکتیں نہیں۔

یمن کے حوثی گروہ نے گزشتہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی اور سعودی فضائی حدود سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے، تاہم ہفتے کے اس مخصوص تازہ دھماکے پر فوری طور پر اس گروہ کا الگ مصدقہ بیان دستیاب نہیں تھا۔ روئٹرز کے مطابق سعودی حکومت کے میڈیا دفتر اور شہری ہوابازی کے ادارے نے تازہ واقعے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

اس نئی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی فضائی آمدورفت، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی مسافروں کے منصوبے متاثر ہو رہے ہیں۔ ریاض میں رواں ماہ اہم توانائی اور سرمایہ کاری اجلاسوں کی تیاری بھی جاری ہے، جن کے منتظمین نے اجلاس پروگرام کے مطابق منعقد کرنے کا کہا ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/riyadh-king-khalid-airport-oct10-new-blast-terminal-3-flights-cancelled-2026?lang=ur