فرانس نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے ساتھ بعض افغان شہریوں کی واپسی کے طریقہ کار پر تکنیکی سطح کی بات چیت شروع کی ہے۔ پجواک نے 8 اکتوبر کو فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی اور ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے یہ پیش رفت رپورٹ کی۔
خبر کے مطابق گفتگو ایسے افغان باشندوں سے متعلق ہے جو فرانس میں قانونی رہائش نہیں رکھتے اور جنہیں فرانسیسی حکام عوامی نظم و امن کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ فرانسیسی ذریعے نے واضح کیا کہ اس رابطے کا مطلب کابل کی موجودہ حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا یا سفارتی تعلقات معمول پر لانا نہیں ہے۔
فرانسیسی وزارت خارجہ نے مبینہ انتظامات سے متعلق بعض سوالات پر تبصرہ نہیں کیا۔ خبر میں واپس بھیجے جانے والے افراد کی کوئی حتمی فہرست یا تصدیق شدہ تعداد بھی نہیں دی گئی، جبکہ ایک ذریعے نے ممکنہ تعداد سینکڑوں بتائی ہے۔
یہ بات چیت ابھی ابتدائی تکنیکی نوعیت کی ہے۔ واپسی کے لیے قانونی طریقہ کار، متعلقہ افراد کے تحفظ اور انسانی حقوق کے تقاضوں پر عمل درآمد کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ طالبان انتظامیہ کا مؤقف بھی اس خبر میں دستیاب نہیں تھا۔
