وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی کے منصوبے اور علاقے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں میں حائل رکاوٹیں دور کرنے اور کام کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ریڈیو پاکستان اور ڈان کے مطابق یہ ہدایات 30 اکتوبر 2026 کو ایک جائزہ اجلاس میں دی گئیں، جس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین بھی شریک تھے۔
اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا؟
وزیراعظم نے وفاقی منصوبوں پر تیز عمل درآمد، بروقت فنڈنگ اور مختلف وزارتوں کے درمیان بہتر رابطہ کاری پر زور دیا۔ اجلاس میں پن بجلی، بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل رابطوں کے منصوبوں کی پیش رفت بھی دیکھی گئی۔ حکام نے 100 میگاواٹ سولر منصوبے کو خطے میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کی ترجیحات میں شامل کیا۔
کیا 100 میگاواٹ منصوبہ مکمل ہوچکا ہے؟
نہیں۔ تازہ رپورٹ میں منصوبہ جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، پلانٹ کی تکمیل، افتتاح یا بجلی کی پیداوار شروع ہونے کا اعلان نہیں۔ رپورٹ میں نئی حتمی تاریخ بھی نہیں بتائی گئی۔ جون کی ایک پرانی بریفنگ میں سرکاری عمارتوں پر سولر سسٹمز اور مجوزہ اضافی صلاحیت کا ذکر تھا، لیکن اسے نصب شدہ مکمل پلانٹس کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
دیگر کن منصوبوں پر گفتگو ہوئی؟
اجلاس میں نلتر بجلی منصوبے، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ حکام کے مطابق 2026 میں پہلے قائم کی گئی کمیٹی وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی رکاوٹوں کا جائزہ لے چکی ہے اور حکومت ان مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے۔
اس اعلان کی عملی اہمیت کیا ہے؟
اگر 100 میگاواٹ کا منصوبہ مکمل ہوکر گرڈ سے جڑ گیا تو علاقائی بجلی کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم صرف اس اعلان سے منصوبے کی حقیقی پیداوار، لاگت یا گھریلو صارفین کے فوائد ثابت نہیں ہوتے۔ بعد کی خبروں میں تعمیراتی مراحل اور بجلی کی فراہمی شروع ہونے کی الگ تصدیق ضروری ہوگی۔
