خیبرپختونخوا پولیس کے مطابق صوبے میں زیرِ استعمال نگرانی کے ڈرونز اور ڈرون مخالف آلات کو پشاور کے سیف سٹی کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سے منسلک کردیا گیا ہے، جس سے پولیس مختلف علاقوں میں جاری آپریشنز کی ویڈیو مرکزی مقام سے دیکھ سکے گی۔ ڈان کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں کے پی سیف سٹیز پروجیکٹ کے ڈائریکٹر ڈی آئی جی اعجاز احمد کے حوالے سے یہ تفصیلات دی گئی ہیں۔
نظام کن سرگرمیوں کی نگرانی کرسکتا ہے؟
پولیس حکام کے مطابق انسدادِ دہشت گردی محکمہ سمیت مختلف آپریشنز میں استعمال ہونے والے پولیس ڈرونز کی براہِ راست ویڈیو مرکزی کنٹرول روم تک منتقل کی جاسکتی ہے۔ ڈرون مخالف آلات بھی اس نگرانی کے نیٹ ورک سے منسلک کیے گئے ہیں تاکہ خطرہ بننے والے بغیر پائلٹ طیاروں کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف کارروائی میں مدد مل سکے۔
آلات کہاں نصب کیے گئے ہیں؟
ڈی آئی جی اعجاز احمد کے مطابق پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں اینٹی ڈرون سسٹمز نصب کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حساس اور دور دراز علاقوں میں پولیس اہلکاروں کو ڈرون مخالف گنز بھی فراہم کی گئی ہیں۔ یہ تعیناتی کی تفصیلات پولیس کا بیان ہیں؛ آلات کا الگ آزادانہ آڈٹ نہیں۔
مشکلات کیا ہیں؟
حکام نے تسلیم کیا کہ کچھ علاقوں میں کمزور انٹرنیٹ کے باعث ویڈیو کی براہِ راست ترسیل ممکن نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے سپارکو کے ساتھ کام کیا جارہا ہے۔
کیا سیکیورٹی میں بہتری ثابت ہوگئی؟
یہ اعلان تکنیکی صلاحیتوں اور عملی منصوبے کی تفصیلات فراہم کرتا ہے، مگر حملوں میں کمی یا ڈرونز کو روکنے کی کامیابی کا آزادانہ جائزہ شامل نہیں۔ کارکردگی کے دعووں کی جانچ کے لیے عملی نتائج درکار ہوں گے۔
