کابل — افغانستان اور ایران کے کاروباری نمائندوں نے ایک تجارتی رابطہ کانفرنس کے دوران مجموعی طور پر 451.8 ملین امریکی ڈالر مالیت کی 28 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ طلوع نیوز کے مطابق یہ تقریب افغانستان کے ایوانِ تجارت و سرمایہ کاری کے زیرِ اہتمام ہوئی۔
کانفرنس میں دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان سامان کی خریدوفروخت کے علاوہ مشترکہ سرمایہ کاری، توانائی اور پیداواری منصوبوں میں تعاون پر بھی گفتگو کی گئی۔ افغان ایوانِ تجارت کے سربراہ سید کریم ہاشمی نے سرمایہ کاروں سے رابطوں کو عملی کاروباری منصوبوں میں بدلنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اگر یہ مفاہمتیں قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل ہوئیں تو تجارت اور مقامی روزگار کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ تاہم بینکنگ رکاوٹیں، سرمایہ کی فراہمی، کسٹمز اور ٹرانسپورٹ اخراجات ان منصوبوں کی رفتار پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
مفاہمتی یادداشتوں کی مجموعی رقم کو فوری براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، ادا شدہ رقم یا مکمل شدہ تجارت قرار دینا درست نہیں۔
