مواد پر جائیں

کابل میں زرعی اجناس لانے والے ڈرائیوروں کو بلدیاتی فیسوں پر تحفظات

کابل — افغانستان کے مختلف صوبوں سے پھل اور سبزیاں کابل پہنچانے والے بعض ڈرائیوروں اور تاجروں نے شہری داخلی مقامات پر وصول کی جانے والی بلدیاتی فیسوں کو اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

1 منٹ مطالعہ

کابل — افغانستان کے مختلف صوبوں سے پھل اور سبزیاں کابل پہنچانے والے بعض ڈرائیوروں اور تاجروں نے شہری داخلی مقامات پر وصول کی جانے والی بلدیاتی فیسوں کو اپنے بڑھتے ہوئے اخراجات کی ایک وجہ قرار دیا ہے۔

طلوع نیوز کے مطابق گاڑیوں سے مخصوص داخلہ مقامات پر 'تہ جائی دروازہ' کے نام سے فیس لی جاتی ہے۔ ایک ڈرائیور نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ، ایندھن اور منڈی کی فیسوں کے ساتھ بلدیاتی فیس بھی کاروبار کی لاگت بڑھاتی ہے۔ اس نے فی گاڑی تقریباً 100 سے 200 افغانی فیس کا ذکر کیا۔

زرعی اجناس کو جلد فروخت کرنا ضروری ہوتا ہے، کیونکہ پھل اور سبزیاں خراب بھی ہوسکتی ہیں۔ نقل و حمل کی اضافی لاگت کا اثر کسان، دکاندار اور صارف تک پہنچنے کا امکان ہوتا ہے، تاہم ہر مقام پر اس کی شدت یکساں نہیں۔

مقامی سطح پر منڈیوں کی بہتری، مناسب اسٹوریج اور فیسوں کی شفاف تفصیل زرعی تجارت کے لیے اہم معاملات ہیں۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-13-afg-development-kabul-farm-produce-fees?lang=ur