کابل، 13 اکتوبر 2026 — افغانستان چیمبر آف کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے صدر سید کریم ہاشمی نے کہا ہے کہ کابل میں منعقد ہونے والی پانچویں امام ابوحنیفہؒ قومی و بین الاقوامی نمائش کے دوران مجموعی طور پر تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر مالیت کے تجارتی معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں طے پائی ہیں۔
نمائش کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید کریم ہاشمی نے معاہدوں کی مجموعی مالیت تقریباً 934.8 ملین ڈالر بتائی۔ خامہ پریس اور دید پریس کی 13 اکتوبر کی رپورٹوں کے مطابق یہ معاہدے افغان اور غیر ملکی کاروباری نمائندوں کے درمیان تجارتی ملاقاتوں کے نتیجے میں سامنے آئے۔
سات روزہ نمائش 7 اکتوبر کو کابل میں شروع ہوئی تھی اور 13 اکتوبر کو اختتام پذیر ہوئی۔ منتظمین کے مطابق تقریب میں افغانستان سمیت 20 ممالک کے کاروباری نمائندوں اور سرمایہ کاروں نے شرکت کی۔ نمائش میں تقریباً 700 سے زائد اسٹالز قائم کیے گئے، جہاں مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں نے مختلف مصنوعات اور خدمات پیش کیں۔
افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی باختر کے مطابق نمائش میں 323 ملکی اور غیر ملکی کمپنیوں نے شرکت کی اور منتظمین نے زائرین کی تعداد تقریباً دس لاکھ بتائی۔ اس موقع پر افغان مصنوعات اور کاروباری مواقع کو بین الاقوامی خریداروں اور سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کیا گیا۔
اس سے قبل نمائش کے دوران افغانستان، ازبکستان اور بھارت کے کاروباری اداروں کے درمیان تقریباً 400 ملین ڈالر، جبکہ افغانستان اور ایران کے نجی شعبوں کے درمیان 451.8 ملین ڈالر کی الگ تجارتی مفاہمتوں کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ تقریباً 934.8 ملین ڈالر اختتامی تقریب میں بتایا گیا مجموعی عدد ہے، اس لیے سابقہ معاہدوں کی رقوم کو اس میں دوبارہ جمع کرکے اضافی سرمایہ کاری نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان معاہدوں سے علاقائی تجارت اور نجی شعبے کے تعاون کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں، تاہم مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کی مجموعی مالیت کو فوری طور پر افغانستان میں موصول ہونے والی براہِ راست سرمایہ کاری یا مکمل شدہ تجارتی لین دین قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے حقیقی معاشی اثرات پر فیصلہ عملی نفاذ اور ادائیگیوں کی تصدیق کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
