چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کے بڑے منصوبوں کے ساتھ صنعت کاری، نئی ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ وفاقی وزارت منصوبہ بندی کے مطابق نئے مرحلے کی ترجیحات میں پیداواری صلاحیت اور برآمدات بڑھانا شامل ہے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مارچ 2026 میں بتایا تھا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے 43 منصوبے مکمل ہوئے اور ملک کے بجلی کے نظام میں تقریباً نو ہزار میگاواٹ صلاحیت کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد پہلے مرحلے کے ہیں، آج کے کسی نئے منصوبے کا اعلان نہیں۔
حکومتی حکمت عملی کے مطابق 2025 سے 2029 تک کے منصوبے میں صنعتی تعاون، ڈیجیٹل رابطے، قابل تجدید توانائی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ نئی سرمایہ کاری کی عملی رفتار متعلقہ معاہدوں اور منصوبوں کی تکمیل سے واضح ہوگی۔
