عالمی بینک کی اکتوبر 2026 کی علاقائی اقتصادی رپورٹ کے مطابق پاکستان مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل خدمات کے لیے افرادی قوت پیدا کر رہا ہے، لیکن تیز رفتار براڈ بینڈ کی رسائی اور بجلی کے معیار میں خامیاں ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال کو محدود کر سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں موبائل براڈ بینڈ صارفین کی تعداد ہم آمدن معیشتوں کی توقعات سے کم ہے۔
پاکستان میں آئی ٹی گریجویٹس کی سالانہ تعداد تقریباً 75 ہزار اور مالی سال 2025-26 میں آئی سی ٹی خدمات کی برآمدات تقریباً چار ارب ساٹھ کروڑ ڈالر بتائی گئی ہیں۔ اس صلاحیت کے باوجود بہت سے کاروبار مستقل انٹرنیٹ، مقامی زبانوں کے ڈیٹا اور قابلِ اعتماد بجلی کے بغیر جدید اے آئی نظام نہیں چلا پاتے۔
عالمی بینک نے کم کمپیوٹنگ وسائل اور محدود انٹرنیٹ پر کام کرنے والی چھوٹی مصنوعی ذہانت کو زرعی، تعلیمی اور صحت کی خدمات میں ایک ممکنہ راستہ قرار دیا ہے۔ یہ مواقع حقیقی فائدے میں تب تبدیل ہوں گے جب بنیادی ڈھانچہ، ہنرمندی اور مقامی ضروریات پر ساتھ ساتھ توجہ دی جائے گی۔
