اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کو مقبوضہ فلسطینی علاقے کی صورتحال پر کھلی بحث کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں مہلک حملوں، مسماریوں اور تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اقوام متحدہ کی خبر کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان اکتوبر 2025 کے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے غزہ میں 1400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے نے دو سالہ جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔ ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی چند روز پہلے شائع شدہ جائزہ رپورٹ میں جنگ بندی کے بعد ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 1400 اور زخمیوں کی 4881 بتائی، جو غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے ہے۔ مارگلہ نیوز نے ہلاکتوں کے یہ اعداد ان ذرائع سے منسوب کیے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ موسم سرما کی آمد کے ساتھ غزہ کے تقریباً تمام 21 لاکھ افراد کو اب بھی پناہ کی مدد درکار ہے۔ عالمی تنظیم برائے ہجرت نے خبردار کیا کہ موجودہ رسد ضروریات کا صرف تقریباً 17 فیصد پورا کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق امداد کی فراہمی فنڈنگ کی کمی اور اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے محدود ہے۔ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے اوچا کا کہنا ہے کہ غزہ کی 64 فیصد سے زیادہ زمین تک رسائی محدود ہے۔
مغربی کنارے میں اقوام متحدہ نے رواں سال ستمبر کے وسط تک اسرائیلی آبادکاروں کے 1600 سے زیادہ حملے اور 4300 سے زیادہ فلسطینیوں کی بے دخلی رپورٹ کی۔ زیتون کی فصل کے موسم میں اقوام متحدہ کے شراکت دار کسانوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ تعمیر نو شروع نہیں ہوئی اور امداد کی مقدار مطلوبہ سطح سے بہت کم ہے۔ اس تنظیم نے دیگر ممالک سے شہریوں کے تحفظ اور حقوق پر مبنی تعمیر نو کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے اسرائیلی اقدامات کے بارے میں ایک قانونی تعبیر بھی پیش کی جسے اسرائیل مسترد کرتا ہے؛ مارگلہ نیوز نے یہ تعبیر ہیومن رائٹس واچ سے منسوب کی ہے اور اسے کسی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کر رہا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے حملے حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بناتے ہیں اور اس گروپ پر دوبارہ مسلح ہونے کی کوشش کا الزام لگاتا ہے، جس کی حماس تردید کرتا ہے۔
سیاق و سباق: اکتوبر 2025 کی جنگ بندی نے بڑے پیمانے پر لڑائی ختم کی اور باقی یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی، لیکن تشدد ختم نہیں ہوا، اور غیر مسلح کرنے، انخلا اور حکمرانی پر مذاکرات حل طلب ہیں۔
