کراچی: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ستمبر میں بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ نمایاں طور پر بڑھ گیا۔ کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ اگست کے 7 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔
رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں ادائیگیوں کا توازن 3.12 ارب ڈالر خسارے میں رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 27 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا سرپلس تھا۔ اس دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 87 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ریکارڈ ہوا، جو پچھلے سال 75 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تھا۔
خسارے کی سب سے بڑی وجہ اشیا کی تجارت ہے۔ پہلی سہ ماہی میں درآمدات 14.3 فیصد بڑھ کر 17.78 ارب ڈالر ہو گئیں جبکہ برآمدات 7.7 فیصد اضافے سے 8.45 ارب ڈالر رہیں، یوں تجارتی خسارہ 21.1 فیصد بڑھ کر 9.33 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ صرف ستمبر میں برآمدات 15.5 فیصد بڑھ کر 3.02 ارب ڈالر رہیں، مگر درآمدات 22.7 فیصد اضافے سے 6.17 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
دوسری جانب کچھ اشاریے حوصلہ افزا رہے۔ پہلی سہ ماہی میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 14 فیصد بڑھ کر 10.88 ارب ڈالر ہو گئیں، اگرچہ ستمبر میں یہ اگست کے 3.66 ارب ڈالر سے کم ہو کر 3.59 ارب ڈالر رہیں۔ خدمات کی برآمدات 22.8 فیصد اضافے سے 2.72 ارب ڈالر رہیں، جن میں آئی ٹی اور ٹیلی کام کا حصہ 1.25 ارب ڈالر تھا۔ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 20 فیصد بڑھ کر 72 کروڑ ڈالر ہو گئی۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر میں تقریباً 2.87 ارب ڈالر کی پورٹ فولیو سرمایہ کاری آئی، جس کا بڑا حصہ قرض کی سیکیورٹیز میں تھا۔ اسٹیٹ بینک کے جدول میں مجموعی زرِ مبادلہ کے ذخائر ستمبر میں 22.88 ارب ڈالر دکھائے گئے، جو اگست میں 18.49 ارب ڈالر تھے۔
جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں روپیہ ایک پیسہ بہتری کے ساتھ 276.91 روپے فی ڈالر پر بند ہوا۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
