مواد پر جائیں

ایشین گیمز میں خالی ہاتھ، کبڈی فیڈریشن اصلاحات پر غور

پاکستان کبڈی فیڈریشن ناگویا میں ہونے والے 20ویں ایشین گیمز میں تاریخ میں پہلی بار کبڈی کا کوئی تمغہ نہ جیتنے کے بعد ایرانی کوچ کی خدمات لینے اور سپر کبڈی لیگ بحال کرنے سمیت اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

لاہور: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اور سابق قومی کپتان محمد سرور نے تسلیم کیا کہ چار دہائیوں میں پہلی بار ٹیم ایشین گیمز سے تمغے کے بغیر لوٹی ہے۔

پاکستان نے مہم کا آغاز ملائیشیا کو 65-22 اور نیپال کو 58-43 سے ہرا کر کیا، مگر تھائی لینڈ کے ہاتھوں 48-45 اور ایران سے 51-30 کی شکستوں نے سیمی فائنل کی امیدیں ختم کر دیں۔ سرور کے مطابق تھائی لینڈ کے خلاف ٹیم 14 پوائنٹس سے آگے تھی لیکن آخری سات منٹ میں میچ ہاتھ سے نکل گیا۔

انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں کی کمی کو ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم عموماً ایران میں تربیت کرتی ہے، مگر امریکا اور ایران کے تنازع کی وجہ سے اس بار وہاں جانا ممکن نہ ہو سکا۔ سرور نے یہ بھی مانا کہ ملک میں سرکل کبڈی کو ترجیح ملتی ہے جبکہ ایشین گیمز میں کھیلی جانے والی میٹ کبڈی پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق فیڈریشن اب ایرانی کوچ رکھنے اور چند سال پہلے منعقد ہونے والی سپر کبڈی لیگ کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کھلاڑیوں کو مقابلے کا ماحول اور مالی استحکام مل سکے۔ اگلا ہدف 11 سے 21 دسمبر تک ریاض میں ہونے والے چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ہیں۔

پاکستان اس سے پہلے ایشین گیمز میں کبڈی کے سات کانسی اور دو چاندی کے تمغے جیت چکا ہے۔ اس بار مردوں اور خواتین دونوں کے مقابلوں میں بھارت نے فائنل میں ایران کو ہرا کر ٹائٹل جیتے۔

مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-17-pakistan-kabaddi-reforms-asian-games-no-medal?lang=ur

اگلا قدم

کھیل کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں