لاہور: ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق پاکستان کبڈی فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اور سابق قومی کپتان محمد سرور نے تسلیم کیا کہ چار دہائیوں میں پہلی بار ٹیم ایشین گیمز سے تمغے کے بغیر لوٹی ہے۔
پاکستان نے مہم کا آغاز ملائیشیا کو 65-22 اور نیپال کو 58-43 سے ہرا کر کیا، مگر تھائی لینڈ کے ہاتھوں 48-45 اور ایران سے 51-30 کی شکستوں نے سیمی فائنل کی امیدیں ختم کر دیں۔ سرور کے مطابق تھائی لینڈ کے خلاف ٹیم 14 پوائنٹس سے آگے تھی لیکن آخری سات منٹ میں میچ ہاتھ سے نکل گیا۔
انہوں نے بین الاقوامی مقابلوں کی کمی کو ناکامی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم عموماً ایران میں تربیت کرتی ہے، مگر امریکا اور ایران کے تنازع کی وجہ سے اس بار وہاں جانا ممکن نہ ہو سکا۔ سرور نے یہ بھی مانا کہ ملک میں سرکل کبڈی کو ترجیح ملتی ہے جبکہ ایشین گیمز میں کھیلی جانے والی میٹ کبڈی پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیڈریشن اب ایرانی کوچ رکھنے اور چند سال پہلے منعقد ہونے والی سپر کبڈی لیگ کو دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ کھلاڑیوں کو مقابلے کا ماحول اور مالی استحکام مل سکے۔ اگلا ہدف 11 سے 21 دسمبر تک ریاض میں ہونے والے چھٹے ایشین انڈور اینڈ مارشل آرٹس گیمز ہیں۔
پاکستان اس سے پہلے ایشین گیمز میں کبڈی کے سات کانسی اور دو چاندی کے تمغے جیت چکا ہے۔ اس بار مردوں اور خواتین دونوں کے مقابلوں میں بھارت نے فائنل میں ایران کو ہرا کر ٹائٹل جیتے۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
