ایکسپریس ٹریبیون پر شائع رپورٹ کے مطابق ٹیسلا نے یہ نئی دو نشستوں والی الیکٹرک اسپورٹس کار ٹیکساس کے علاقے میک گریگر میں اسپیس ایکس کی ٹیسٹ سائٹ پر پیش کی۔ مظاہرے میں گاڑی سکشن سسٹم کی مدد سے ریمپ پر الٹی چلی، ہوا میں گھومی اور تھرسٹرز کے ذریعے ایک ٹرک سمیت گاڑیوں کے اوپر سے چھلانگ لگا کر اتری۔
ٹیسلا کے وہیکل انجینئرنگ کے سربراہ لارس موراوی کے مطابق روڈسٹر ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر سے 60 میل فی گھنٹہ کی رفتار پکڑ سکتی ہے، اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 230 میل (370 کلومیٹر) فی گھنٹہ سے زائد ہے اور یہ ایک چارج پر 300 میل (480 کلومیٹر) سے زیادہ فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ یہ رینج 2017 میں ایلون مسک کے وعدے کے نصف سے بھی کم ہے۔
تقریب میں قیمت کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم ٹیسلا کے ریزرویشن پیج پر 'پرفارمنس' ورژن کے لیے 50 ہزار ڈالر اور تھرسٹرز والے 'تھرسٹ' ورژن کے لیے ڈھائی لاکھ ڈالر ڈپازٹ درج ہے۔ ایک 'راکٹ' ورژن صرف دعوت پر دستیاب بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رونمائی کے بعد جمعہ کو قبل از بازار ٹریڈنگ میں ٹیسلا کے حصص 5 فیصد بڑھ گئے۔ کچھ تجزیہ کاروں نے اسے ایسا انجینئرنگ مظاہرہ قرار دیا جس کی تجارتی اہمیت محدود ہے، جبکہ بعض نے اسے مسک کی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کو قریب لانے کی خواہش کی علامت کہا۔
نئی روڈسٹر کا اعلان پہلی بار 2017 میں ہوا تھا اور اس کی ترسیل 2020 میں شروع ہونا تھی، مگر بار بار تاخیر ہوتی رہی۔ یہ رونمائی ایسے وقت ہوئی ہے جب ٹیسلا کی توجہ خودکار ڈرائیونگ اور روبوٹکس کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
مزید تفصیل ایکسپریس ٹریبیون پر۔
