وار مانیٹر کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے 17 سے 19 اکتوبر کے درمیان بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے چار اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کو نشانہ بنانے والے سات حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
اہم نکات
- دعوے قلعہ عبداللہ، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور ٹانک سے متعلق ہیں
- گروپ نے کئی واقعات میں جانی و مالی نقصان کا دعویٰ کیا مگر مصدقہ اعداد نہیں دیے
- ان دعوؤں کی سرکاری تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی
بلوچستان: قلعہ عبداللہ
ٹی ٹی پی کے بیانات کے مطابق 18 اکتوبر کو قلعہ عبداللہ کے علاقے میزی اڈہ میں ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا گیا۔ گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس حملے میں ایک افسر سمیت تین اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان
شمالی وزیرستان میں گروپ نے 18 اکتوبر کو میر علی کے علاقے ایپی میں فوجی قافلے اور 19 اکتوبر کو حسو خیل میں سکیورٹی پوزیشنوں پر حملے کا دعویٰ کیا، تاہم ہلاکتوں کی کوئی مصدقہ تعداد نہیں بتائی۔
جنوبی وزیرستان میں ٹی ٹی پی نے 17 اکتوبر کو شکئی کے قریب ایک فوجی ٹرک کو نقصان پہنچانے اور 18 اکتوبر کو کٹوری سر چوکی کے قریب ایک فوجی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کیا۔
ٹانک میں دو حملے
گروپ کے مطابق 18 اکتوبر کو ضلع ٹانک میں عمر خان کلے کی ایک فوجی تنصیب اور گومل پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔
تصدیق کا انتظار
وار مانیٹر نے واضح کیا ہے کہ یہ تمام دعوے ٹی ٹی پی کے اپنے بیانات پر مبنی ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق باقی ہے اور رپورٹ ہونے والی ہلاکتوں کی کوئی سرکاری تصدیق دستیاب نہیں۔
اصل رپورٹ وار مانیٹر اور وار مانیٹر کی ایکس پوسٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔
