مواد پر جائیں
خبر

چار سرحدی راستوں سے 125 افغان خاندان وطن واپس، مجموعی تعداد 595 افراد: افغان کمیشن

افغانستان کے مہاجرین سے متعلق کمیشن کے مطابق 125 خاندانوں کے 595 افراد تورخم، اسپین بولدک، پل ابریشم اور اسلام قلعہ کے راستے واپس آئے اور رجسٹریشن، ٹرانسپورٹ، مالی، طبی اور غذائی معاونت حاصل کی۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

مارگلہ نیوز روم

شائع شدہ

ای میل
مارگلہ نیوز ادارتی گرافک: چار سرحدی راستوں سے 125 افغان خاندان وطن واپس، مجموعی تعداد 595 افراد: افغان کمیشن
Margalla News editorial graphic

افغانستان کے مہاجرین اور واپس آنے والے شہریوں کے مسائل سے متعلق کمیشن نے کہا ہے کہ تازہ رپورٹ شدہ مرحلے میں 125 خاندانوں کے مجموعی طور پر 595 افراد چار اہم سرحدی راستوں سے افغانستان واپس آئے ہیں۔ پژواک افغان نیوز کے مطابق کمیشن نے ان خاندانوں کی رجسٹریشن، ٹرانسپورٹ، مالی معاونت، طبی خدمات اور غذائی امداد سے متعلق تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ ایک الگ رپورٹ میں 8AM میڈیا نے بھی نائب حکومتی ترجمان حمداللہ فطرت کے حوالے سے 125 خاندانوں اور 595 افراد کی یہی مجموعی تعداد رپورٹ کی ہے۔

کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق تورخم کے راستے 50 خاندانوں کے 259 افراد افغانستان میں داخل ہوئے۔ ان خاندانوں کو مختلف صوبوں تک پہنچانے کے لیے ٹرانسپورٹ کی مد میں 305 ہزار 170 افغانی ادا کیے جانے کی اطلاع بھی دی گئی۔ اسپین بولدک کے راستے 14 خاندانوں کے 71 افراد واپس آئے، جہاں حکام کے مطابق انہیں نقد اور ٹرانسپورٹ معاونت بھی فراہم کی گئی۔

پل ابریشم کے ذریعے واپس آنے والوں کی تعداد اس روز سب سے زیادہ بتائی گئی۔ کمیشن کے مطابق اس راستے سے 58 خاندانوں کے 253 افراد افغانستان میں داخل ہوئے۔ اسلام قلعہ کے راستے تین خاندانوں کے 12 افراد کی واپسی رپورٹ ہوئی۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ کابل میں 15 خاندانوں کے 70 افراد کو مختلف صوبوں کی طرف منتقل کیا گیا اور انہیں نقد امداد فراہم کی گئی۔

یہ اعداد و شمار افغان حکام کے ایک دن کے انتظامی ریکارڈ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہیں افغانستان واپس آنے والے تمام شہریوں کی طویل مدتی مجموعی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے۔ ایران اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے افغان شہری مختلف حالات میں واپس آتے ہیں؛ بعض رضاکارانہ طور پر واپس ہوتے ہیں، بعض امیگریشن قوانین اور ملک بدری کی کارروائیوں سے متاثر ہوتے ہیں اور بعض خاندان اقتصادی یا سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نقل مکانی کا فیصلہ کرتے ہیں۔

پژواک کی رپورٹ میں کمیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ واپس آنے والوں کو رجسٹریشن، صحت، خوراک، ٹرانسپورٹ اور مالی معاونت جیسی خدمات فراہم کی گئیں۔ تاہم دستیاب تفصیلات ہر خاندان کی قانونی حیثیت، واپسی کی مخصوص وجہ یا ان کے آبائی صوبے کے بارے میں مکمل انفرادی ریکارڈ فراہم نہیں کرتیں۔ اسی لیے مارگلہ نیوز تمام 595 افراد کی واپسی کو کسی ایک وجہ سے منسوب نہیں کر رہا۔

8AM میڈیا نے نائب حکومتی ترجمان کے حوالے سے ان خاندانوں کو جبری طور پر واپس کیے جانے والوں میں شمار کیا ہے۔ دوسری طرف کمیشن کی تفصیلی رپورٹ بنیادی طور پر سرحدی اندراج اور امدادی کارروائیوں پر مرکوز ہے۔ دونوں رپورٹس کے فرق کو مدنظر رکھتے ہوئے خبر میں یہ واضح رکھا گیا ہے کہ تمام خاندانوں کی قانونی یا انتظامی واپسی کی نوعیت ایک جیسی ثابت نہیں کی جا سکتی۔

یہ پیش رفت افغانستان کے لیے اس لیے اہم ہے کہ بڑی تعداد میں واپس آنے والے خاندانوں کو فوری سرکاری اور انسانی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ رجسٹریشن اور سرحدی استقبال صرف پہلا مرحلہ ہوتا ہے؛ اس کے بعد رہائش، روزگار، تعلیم، صحت، شناختی دستاویزات اور مقامی آبادی میں دوبارہ آبادکاری جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔ بہت سے خاندان ایسے صوبوں میں واپس جاتے ہیں جہاں روزگار کے محدود مواقع، خشک سالی، بنیادی ڈھانچے کی کمی یا پہلے سے موجود اندرونی نقل مکانی کا دباؤ موجود ہوتا ہے۔

چاروں راستوں کی جغرافیائی اہمیت بھی قابلِ توجہ ہے۔ تورخم اور اسپین بولدک پاکستان کے ساتھ افغانستان کی بڑی آمد و رفت کی گزرگاہیں ہیں، جبکہ اسلام قلعہ اور پل ابریشم ایران سے آنے والے افغان شہریوں کے اہم راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ پڑوسی ممالک کی امیگریشن پالیسی، سرحدی حالات اور اقتصادی صورتحال میں تبدیلی کے ساتھ ان راستوں سے آنے والوں کی روزانہ تعداد تیزی سے بدل سکتی ہے۔

واپس آنے والے خاندانوں کی بڑی تعداد افغانستان کے انسانی امدادی نظام پر بھی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ اگر واپسی منظم انداز میں ہو تو ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش اور نقد امداد خاندانوں کے ابتدائی مسائل کم کر سکتی ہے، لیکن طویل مدتی استحکام کے لیے روزگار اور مقامی خدمات زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت، اقوام متحدہ کے اداروں اور امدادی تنظیموں کے مختلف پروگرام پہلے سے کام کر رہے ہیں، مگر ان کی گنجائش اور فنڈنگ ہر علاقے میں یکساں نہیں۔

مارگلہ نیوز نے اس خبر کے لیے پژواک کی تفصیلی رپورٹ اور 8AM میڈیا کی علیحدہ رپورٹ کا تقابل کیا ہے۔ دونوں بنیادی مجموعی تعداد، یعنی 125 خاندان اور 595 افراد، پر متفق ہیں۔ اگر افغان کمیشن نئی روزانہ رپورٹ، نظرثانی شدہ تعداد، صوبہ وار منزل یا امداد کی مزید تفصیل جاری کرتا ہے تو اسی خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا تاکہ ایک ہی واپسی کے اعداد و شمار پر الگ الگ نقل خبریں نہ بنیں۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-afghan-returnees-125-families-595-2026-09-20?lang=ur

ماخذ: https://pajhwok.com/2026/09/20/125-families-return-to-afghanistan-via-4-crossings/

اگلا قدم

افغانستان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں

اس سیکشن کی مزید تازہ خبریں Latest میں دیکھیں۔