اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت نے بامیان میں شمسی چولہوں کے استعمال کو دیہی خاندانوں کے روزمرہ کام اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک عملی قدم قرار دیا ہے۔ ادارے کی 22 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق بدغیس، بامیان، غزنی، کنڑ اور پکتیا میں مجموعی طور پر 468 خاندانوں کو شمسی چولہے فراہم کیے گئے۔ بامیان میں خواتین ان چولہوں سے پانی گرم کرنے اور دھوپ والے دنوں میں دال، سبزیاں، گوشت اور روٹی سمیت مختلف غذائیں تیار کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس طریقے سے لکڑی، جھاڑیوں اور گوبر کے ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور گھر کے اندر دھوئیں میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ یہ چولہے روایتی چولہوں کا مکمل متبادل نہیں کیونکہ بادل، بارش اور برف کے دوران ان کی کارکردگی محدود رہتی ہے۔ ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق اسی وسیع منصوبے کے تحت 2018 سے بامیان میں 77 ہزار 190 ہیکٹر سے زیادہ چراگاہ کی بحالی بھی کی گئی ہے۔ یہ سرگرمی دیہی توانائی، خواتین کے روزمرہ کام اور ماحول کے تحفظ کو ایک ہی منصوبے میں جوڑتی ہے۔
Margalla Newsافغانستان
بامیان میں شمسی چولہے، خواتین کے روزمرہ کام اور چراگاہوں کے تحفظ میں مدد
پاکستان • افغانستان • خطہ
سیکشن اور موضوعات
ادارتی شفافیت
خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-bamyan-solar-cookers-2026-09-22?lang=ur
ماخذ: https://www.fao.org/afghanistan/news/stories-detail/solar-cookers-support-women-and-rangelands-in-bamyan/en


