ایران نے کہا ہے کہ اگر امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرے تو تہران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔
Reuters نے 22 ستمبر کو ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ واشنگٹن کو سفارت کاری کے ذریعے بحران حل کرنے کی سنجیدہ خواہش کا واضح اشارہ بھی دینا ہوگا اور مذاکرات کے لیے ایک timeline پر اتفاق کرنا ہوگا۔
رائٹرز کے مطابق نیویارک میں UN General Assembly کے لیے موجود ایرانی وفد کو سفارتی بات چیت آگے بڑھانے کا اختیار دیا گیا ہے۔ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو ایک تجویز بھی پہنچائی ہے۔
یہ ایران کی پیشکش اور negotiating position ہے، امریکا کے ساتھ طے شدہ agreement نہیں۔ تازہ reporting کے وقت تک واشنگٹن کی جانب سے ان شرائط کو قبول کرنے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین energy shipping routes میں شامل ہے، اور اس میں رکاوٹ نے oil، LNG، freight اور insurance markets پر بڑے اثرات ڈالے ہیں۔
ایرانی فوجی حکام الگ طور پر خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو ایران جواب دے گا۔ ایسے بیانات کو ایرانی حکام کا مؤقف سمجھنا چاہیے، مستقبل کی تصدیق شدہ کارروائی نہیں۔
آبنائے کا دوبارہ کھلنا آئندہ سفارتی اور سکیورٹی پیش رفت اور ایران کی شرائط پر ممکنہ سمجھوتے پر منحصر ہوگا۔


