پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، تاہم واقعے کے بارے میں دونوں ممالک کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چار پاکستانی مقامی حکام نے بدھ کو کہا کہ پاکستانی فورسز نے پکتیا اور ننگرہار سے ملحقہ علاقوں میں سرحد پار دراندازی کی ایک مبینہ کوشش ناکام بنائی، جس کے بعد ان کے بقول افغان طالبان فورسز نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر مارٹر اور دیگر بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔
پاکستانی حکام کے مطابق پاکستانی فورسز نے اس فائرنگ کے جواب میں توپ خانے سے کارروائی کی اور افغان جانب بعض سرحدی چوکیوں، مارٹر مقامات اور دفاعی پوزیشنوں کو نشانہ بنایا۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکی۔
افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے ردعمل میں افغان طالبان فورسز کی جانب سے پاکستانی چوکیوں پر حملے کی تردید کی۔ اس لیے موجودہ واقعہ فی الحال متنازع ہے: پاکستانی حکام حملے کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ کابل اس کی تردید کر رہا ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان نے حالیہ دنوں میں افغانستان کے اندر فضائی کارروائیوں کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام نے ان حملوں کی مذمت کی۔ اسی روز پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے افغانستان کی جانب سے آنے والے متعدد ڈرونز مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا۔ ان واقعات نے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود سرحدی اور سکیورٹی تناؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
