پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں سے متعلق اسرائیلی اقدامات کے خلاف اپنا سفارتی ردعمل زیادہ مربوط بنائیں۔
Arab News Pakistan کے مطابق اسحاق ڈار نے یہ بات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر OIC Committee of Six کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔ رپورٹ میں پاکستان کے دفترِ خارجہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ڈار نے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور آبادکاروں کے تشدد کے خلاف تحفظ، مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ اور ان اقدامات پر جوابدہی کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کی اپیل کی جنہیں پاکستان بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
یہ پاکستان کا سرکاری سفارتی مؤقف ہے۔ دستیاب رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کہ OIC اجلاس نے کوئی نئی اجتماعی پابندی، enforcement mechanism یا فوجی اقدام منظور کیا ہو۔
پاکستان طویل عرصے سے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا رہا ہے اور OIC اور اقوامِ متحدہ سمیت کثیرالجہتی فورمز پر اسی پالیسی کو آگے بڑھاتا رہا ہے۔
اس لیے تازہ پیش رفت کو OIC کی نئی اجتماعی پالیسی کے بجائے پاکستان کی جانب سے مربوط سفارتی اقدام کے نئے مطالبے کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔


