پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کو لاہور میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی پنجاب کے ترجمان کے مطابق پولیس نے اتوار کو انہیں لاہور میں گرفتار کیا۔ Reuters اور Al Jazeera نے بھی 20 ستمبر کو اس گرفتاری کی خبر دی ہے۔
لاہور کی ضلعی انتظامیہ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق علیمہ خان کو گرفتار کر کے 30 روز کے لیے جیل بھیجا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ حکام کے مطابق عوامی مقامات پر ان کی موجودگی امنِ عامہ اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ Al Jazeera کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور نے پنجاب کے مینٹیننس آف پبلک آرڈر قانون کے تحت حراست کا حکم جاری کیا۔
یہ پیش رفت پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی مارچ سے ایک ہفتہ قبل سامنے آئی ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ حکومت مارچ کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گی۔
پی ٹی آئی نے علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔ Al Jazeera کے مطابق گرفتاری کے حوالے سے حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی الگ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ Reuters نے ضلعی انتظامیہ کے حراستی نوٹیفکیشن کا حوالہ دیا ہے۔ خبر میں مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنے پر اسے اپڈیٹ کیا جائے گا۔

