یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2026-27 کے سپر ایل نینو سے پیدا ہونے والی شدید گرمی ستمبر 2026 سے فروری 2027 کے چھ ماہ کے دوران دنیا بھر میں 4 لاکھ 51 ہزار تک اضافی اموات سے منسلک ہو سکتی ہے۔ یہ ایک تحقیقی تخمینہ ہے اور موجودہ ہلاکتوں کی گنتی نہیں۔ رپورٹ کے مطابق انتہائی گرم دنوں کی تعداد عام برسوں کے مقابلے میں تقریباً 44 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے۔ محققین کے اندازوں میں نائجیریا، انڈونیشیا اور سوڈان سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں، جبکہ افریقہ کے ساحل خطے اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی اضافی گرمی سے صحت کے خطرات نمایاں رہنے کی توقع ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر ایل نینو 2027 کے مزید مہینوں تک جاری رہا تو اموات کا تخمینہ بڑھ سکتا ہے، خصوصاً شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے دوران بھارت اور پاکستان بھی زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
خبر
سپر ایل نینو سے فروری 2027 تک 4 لاکھ 51 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، نئی تحقیق
یونیورسٹی آف شکاگو کے کلائمیٹ امپیکٹ لیب کے محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ سپر ایل نینو سے شدید گرمی کے باعث فروری 2027 تک دنیا بھر میں 4 لاکھ 51 ہزار تک اضافی اموات ہو سکتی ہیں۔
Margalla Newsدنیا
سپر ایل نینو سے فروری 2027 تک 4 لاکھ 51 ہزار اضافی اموات کا خدشہ، نئی تحقیق
پاکستان • افغانستان • خطہ
سیکشن اور موضوعات
ادارتی شفافیت
خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-super-el-nino-451000-excess-deaths-study-2026-09-23?lang=ur
ماخذ: https://epic.uchicago.edu/events/event/a-postcard-from-the-future-the-heat-toll-of-the-2026-27-super-el-nino-and-what-we-can-still-do/
