برطانیہ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے تناظر میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں اور بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر نئی تشویش ظاہر کی ہے۔
Ariana News کے مطابق برطانوی بیان میں کہا گیا کہ افغانستان میں 22 ملین سے زیادہ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ لندن نے خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت سے متعلق پابندیوں کا بھی ذکر کیا۔
یہ برطانوی حکومت کا سفارتی مؤقف ہے۔ اس بیان میں افغانستان کے خلاف کسی نئی پابندی، سزا یا قانونی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
افغان حکام ماضی میں اسی نوعیت کی بین الاقوامی تنقید مسترد کرتے ہوئے کہتے رہے ہیں کہ ملک میں حقوق اسلامی شریعت اور افغان اقدار کے مطابق محفوظ ہیں۔ یہ کابل حکام کا اپنا مؤقف ہے۔
انسانی بحران کا معاملہ حقوق کی سیاسی بحث سے الگ بھی اہم ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے خوراک، صحت، رہائش اور بنیادی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں بڑے پیمانے پر ضروریات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں۔
برطانیہ کا تازہ بیان افغانستان میں انسانی حقوق اور انسانی بحران سے متعلق جاری بین الاقوامی دباؤ کا حصہ ہے، تاہم اس سے افغانستان کے ساتھ تعلقات کی قانونی یا سفارتی حیثیت میں کوئی خودکار تبدیلی نہیں ہوتی۔


