افغانستان گزشتہ مہینوں کے دوران بار بار سرحد پار فضائی حملوں کی زد میں آیا ہے۔ ان واقعات نے ایک بنیادی سوال دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے: کسی ریاست کو دوسرے ملک کی سرزمین کے اندر طاقت استعمال کرنے کی حد کہاں تک حاصل ہے، اور ایسے حالات میں ان شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے جو لڑائی میں شریک نہیں؟
یہ محض عسکری معاملہ نہیں۔ یہ افغانستان کی خودمختاری، شہری جانوں کے احترام اور ان اصولوں کا سوال ہے جو علاقائی تنازعات کو لامتناہی جنگ میں بدلنے سے روکنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
افغان عوام کے لیے اس بحث کی انسانی قیمت محض نظریاتی نہیں۔ ستمبر میں سامنے آنے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ، جسے امو ٹی وی نے رپورٹ کیا، کے مطابق پاکستانی حملوں سے غزنی، کنڑ، خوست، پکتیکا اور پکتیا کے علاقے متاثر ہوئے۔ اسی رپورٹ کے مطابق 28 جون کو کنڑ، پکتیکا اور پکتیا میں فضائی حملوں سے 28 شہری ہلاک اور 189 زخمی ہوئے۔ پاکستان نے UNAMA کو بتایا کہ اس کے حملوں کا ہدف پاکستان کے اندر حملوں سے منسلک عسکریت پسندوں کے ٹھکانے اور بنیادی ڈھانچہ تھا، جبکہ افغان طالبان حکام نے اس مؤقف کو مسترد کیا۔
یہ متضاد دعوے آزادانہ تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں، مگر شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری ختم نہیں کرتے۔
افغان خون اتنا ارزاں کیوں سمجھا جائے؟
افغانستان نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے تک جنگ، بمباری، نقل مکانی اور بیرونی مداخلت کی قیمت اپنے لوگوں کی جانوں سے ادا کی ہے۔ ایک نسل جنگ میں پیدا ہوئی، دوسری جنگ میں جوان ہوئی اور نئی نسل کو بھی یہی قیمت ادا کرنا پڑے تو یہ ایک سنگین انسانی المیہ ہوگا۔
گھر چاہے کنڑ میں ہو، پکتیا میں یا پکتیکا میں—گھر گھر ہوتا ہے۔ اس میں رہنے والا بچہ کسی عسکری نقشے پر بنا ہوا نقطہ نہیں بلکہ ایک انسان ہے۔
جب ایسے واقعات بار بار ہوں تو سب سے بڑا خطرہ یہ ہوتا ہے کہ غیر معمولی چیز آہستہ آہستہ معمول بن جائے۔
اسلام میں بے گناہ جان کی حرمت
اسلامی تعلیمات میں ناحق انسانی جان لینا انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ جنگ بھی اخلاقی حدود سے آزاد نہیں ہو جاتی۔ عورت، بچہ، بوڑھا اور وہ شخص جو براہ راست جنگ میں شریک نہیں، اس کی جان کی حرمت سیاسی حالات بدلنے سے ختم نہیں ہوتی۔
قومی سلامتی، عسکری ضرورت یا سیاسی کشیدگی کی کوئی زبان بے گناہ انسان کے خون کو معمولی نہیں بنا سکتی۔
افغان بچے کا خون بھی خون ہے۔
افغان ماں کا دکھ بھی دکھ ہے۔
اور افغانستان کی سرزمین بھی کسی دوسرے ملک کی مرضی سے استعمال ہونے والی خالی جگہ نہیں۔
یہ خودمختاری کا سوال بھی ہے
افغانستان ایک خودمختار ملک ہے۔
اس کی سرحدیں ہیں، فضائی حدود ہیں اور علاقائی سالمیت ہے۔ جب کسی دوسرے ملک کی فوجی طاقت افغان حدود کے اندر استعمال ہوتی ہے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ہدف کیا تھا؛ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال کی قانونی بنیاد کیا تھی اور اس کے نتیجے میں شہریوں کو کس حد تک نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کا بنیادی ڈھانچہ ریاستوں کی علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کے احترام پر قائم ہے۔ اگر چھوٹی ریاستوں کی سرحدیں صرف طاقتور ہمسایوں کی مرضی تک محترم رہیں تو بین الاقوامی قانون کی عملی اہمیت کمزور پڑ جاتی ہے۔
افغانستان میدانِ جنگ نہیں
افغانستان کو دنیا کے سامنے ایک واضح اصول رکھنا چاہیے: اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے غیر محدود عسکری حساب کتاب کا میدان نہیں بن سکتی۔
افغانستان کی پالیسیوں پر اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ کابل پر سفارتی دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ مذاکرات، ثالثی، سرحدی رابطے اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے تنازعات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
لیکن طاقت کا استعمال ہمیشہ قانون، ثبوت، ضرورت، تناسب اور شہری تحفظ کے سوالات کے تابع رہنا چاہیے۔
خاموشی معمول بننے کا خطرہ پیدا کرتی ہے
ہر فضائی یا سرحد پار حملے کا قابلِ اعتماد ریکارڈ محفوظ ہونا چاہیے۔ شہری نقصان کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ متاثرہ خاندانوں کی گواہی محفوظ کی جانی چاہیے، اور افغانستان کو علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر اپنی فضائی حدود اور شہریوں کے تحفظ کا معاملہ مسلسل اٹھانا چاہیے۔
یہ کسی مخصوص حکومت، جماعت یا نظریے کی حمایت کا سوال نہیں۔
یہ افغانستان کے حقِ خودمختاری اور افغان شہریوں کی جان کے احترام کا سوال ہے۔
افغانستان بہت جنگ دیکھ چکا ہے۔ اس کے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے بچے اس خوف کے بغیر سو سکیں کہ کسی سرحد پار فیصلے کی قیمت اچانک ان کے گھر کو ادا کرنا پڑے گی۔
افغانستان کی فضائیں افغانستان کی ہیں۔ اس کے شہریوں کی جانیں قابلِ احترام ہیں، اس کی سرزمین قابلِ احترام ہے، اور اس کی خودمختاری کو قانون، ثبوت اور جواب دہی کے اصولوں کے تحت محفوظ رہنا چاہیے۔


