مواد پر جائیں

حوثی حملوں کے دعوے کے بعد تیل 4 ڈالر فی بیرل مہنگا، برینٹ 107 ڈالر تک پہنچ گیا

مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی کے دوران خام تیل کی قیمت تقریباً 4 ڈالر فی بیرل بڑھی اور برینٹ 107 ڈالر تک پہنچ گیا؛ حوثیوں نے جازان میں سعودی فوجی مقامات پر حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی کے باعث عالمی تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو تیز اضافہ ہوا اور برینٹ خام تیل 107 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ رائٹرز کے مطابق خام تیل کی قیمت تقریباً 4 ڈالر فی بیرل بڑھی، جس سے توانائی کی فراہمی اور مہنگائی کے بارے میں سرمایہ کاروں کی تشویش دوبارہ بڑھ گئی۔

قیمتوں میں تیزی اس وقت آئی جب یمن کے حوثیوں نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب کے جازان علاقے میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس مخصوص حملے کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی، اس لیے حملے کی تفصیل کو حوثیوں کے دعوے کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

علاقائی تنازع پہلے ہی خلیج اور بحیرہ احمر میں تیل کی ترسیل، جہاز رانی اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ ڈال چکا ہے۔ گزشتہ ہفتوں میں سعودی پائپ لائن اور برآمدی راستوں سے متعلق خدشات نے بھی خام تیل کی قیمتوں کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔

تیل کی بڑھتی قیمتوں نے جمعرات کو امریکی حصص اور بانڈ منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھایا۔ بلند توانائی لاگت سے مہنگائی کے دوبارہ تیز ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جس سے شرح سود کے بارے میں سرمایہ کاروں کی توقعات متاثر ہو سکتی ہیں۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/oil-brent-107-houthi-saudi-tensions-2026-09-24?lang=ur