اقوام متحدہ میں انسانی حقوق سے متعلق مباحثے کے دوران پاکستان کے نمائندے نے افغانستان کے طالبان حکام پر الزام عائد کیا کہ مسلح تنظیموں کو افغان سرزمین سے سرگرم رہنے دیا جارہا ہے۔ ایک الگ اقوام متحدہ فورم میں انسانی حقوق کے ماہر نے رکن ملکوں پر زور دیا کہ کابل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے پہلے انسانی حقوق کی قابلِ تصدیق بہتری کا مطالبہ کریں۔ ڈان نے ان بیانات کی تفصیلات 31 اکتوبر 2026 کو رپورٹ کیں۔
پاکستان نے کیا الزام لگایا؟
پاکستان کی نمائندگی کرنے والے محمد جواد اجمل نے دعویٰ کیا کہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں سرگرم ہیں اور افغان سرزمین سے منسلک حملوں میں پاکستان میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے ہیں۔ یہ پاکستان کا فورم پر پیش کردہ مؤقف ہے؛ رپورٹ نے ہر حملے کی ذمہ داری کی آزادانہ تصدیق یا طالبان حکام کا مکمل جوابی مؤقف فراہم نہیں کیا۔
جواد اجمل نے خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیوں پر بھی تنقید کی، بین الاقوامی ذمہ داریوں اور مسلم اکثریتی ممالک کے اعتراضات کا حوالہ دیا۔ یوں انہوں نے سیکیورٹی کے خدشات کے ساتھ انسانی حقوق کی جواب دہی کا مطالبہ بھی کیا۔
اقوام متحدہ کے ماہر نے کیا کہا؟
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندہ رچرڈ بینیٹ نے ایک الگ فورم سے کہا کہ طالبان نے 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزیوں کو واپس نہیں لیا۔ انہوں نے خواتین اور لڑکیوں پر جاری پابندیوں، من مانی گرفتاریوں، تشدد اور اقلیتوں و معذور افراد کے ساتھ سلوک پر تشویش ظاہر کی۔
بینیٹ نے ممالک سے کہا کہ قابلِ تصدیق تبدیلی کے بغیر تعلقات معمول پر نہ لائیں۔ یہ خصوصی نمائندے کی سفارش ہے، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کا کوئی لازمی سفارتی فیصلہ نہیں۔
کیا دونوں بیانات ایک ہی نتیجہ ہیں؟
نہیں۔ سرحد پار شدت پسندی سے متعلق پاکستان کے الزامات اور انسانی حقوق کے بارے میں بینیٹ کے نتائج اقوام متحدہ کے مختلف مباحثوں میں سامنے آئے۔ انہیں کسی مخصوص حملے کی ذمہ داری سے متعلق ایک مشترکہ اقوام متحدہ کے فیصلے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
کیا بات مزید واضح ہونا باقی ہے؟
مذکورہ رپورٹ میں ان مخصوص بیانات پر طالبان حکام کا تفصیلی جواب موجود نہیں۔ آئندہ رپورٹنگ میں تمام متعلقہ فریقوں کے مؤقف لیے جائیں اور سرکاری الزامات، انسانی حقوق کی دستاویزی معلومات اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ واقعات الگ رکھے جائیں۔
