مواد پر جائیں

پروان میں تقریباً 50 غیر ملکی انگور اقسام کی کامیاب آزمائشی کاشت

پروان کے ایک باغبان کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا، روس اور یوکرین سے حاصل کی گئی تقریباً 50 انگور اقسام نے ابتدائی آزمائش میں حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

پروان کے ایک باغبان نے وسطی ایشیا، روس اور یوکرین سے حاصل کی گئی تقریباً 50 انگور اقسام کی آزمائشی کاشت کی ہے اور ابتدائی نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ باغبان میر حمزہ کے مطابق ان اقسام میں رنگ، جسامت، ذائقہ اور پکنے کے وقت کے اعتبار سے فرق موجود ہے اور بعض اقسام مقامی طور پر عام انگور سے مختلف خصوصیات رکھتی ہیں۔

کسی نئی قسم کی ایک یا دو ابتدائی فصلیں یہ دکھا سکتی ہیں کہ پودا مقامی ماحول میں زندہ رہ سکتا ہے اور پھل دے سکتا ہے، لیکن اس سے طویل مدتی تجارتی کامیابی ثابت نہیں ہوتی۔ کسی بھی قسم کو بڑے پیمانے پر پھیلانے سے پہلے کئی موسموں میں اس کی فی پودا پیداوار، پھل کے معیار، بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت، سردیوں میں برداشت اور پانی کی ضرورت کا موازنہ ضروری ہوگا۔

پروان پہلے ہی افغانستان کے اہم انگور پیدا کرنے والے علاقوں میں شامل ہے، اس لیے نئی اقسام کا کامیاب ہونا کسانوں کو مختلف منڈیوں کے لیے زیادہ انتخاب دے سکتا ہے۔ تاہم صرف زیادہ پیداوار کافی نہیں ہوگی۔ ایسی قسم جس کا ذائقہ یا شکل اچھی ہو اسے بھی مناسب پیکنگ، ذخیرہ، ٹھنڈی ترسیل اور منڈی میں خریدار درکار ہوتے ہیں۔

نئی اقسام کی تجارتی صلاحیت کا ایک اور پیمانہ قیمت ہوگا۔ اگر درآمد شدہ قسم زیادہ پانی، اضافی ادویات یا مہنگی دیکھ بھال مانگتی ہے تو اچھی پیداوار کے باوجود کسان کے لیے اس کا منافع محدود ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایسی قسم جو کم پانی میں اچھی پیداوار دے اور نقل و حمل کے دوران زیادہ دیر محفوظ رہے، مقامی باغبانوں کے لیے زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔

اس آزمائشی کاشت کی اہمیت اسی مرحلے میں ہے کہ مختلف اقسام کو مقامی حالات میں پرکھا جا رہا ہے۔ اگلے چند موسموں کے مسلسل نتائج ہی یہ واضح کریں گے کہ ان میں سے کون سی اقسام پروان کی آب و ہوا، پانی کی دستیابی اور افغان منڈی کی ضروریات کے ساتھ مستقل طور پر موزوں رہتی ہیں۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/parwan-50-foreign-grape-varieties-2026-09-24?lang=ur