پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا کے مختلف سرکاری میڈیکل کالجوں میں زیرِ تعلیم 86 افغان طلبہ کی بے دخلی عارضی طور پر روک دی ہے اور انہیں اگلی سماعت تک تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ ان کی تعلیم روکنے کی کوئی دوسری قانونی وجہ موجود نہ ہو۔
ڈان کے مطابق جسٹس وقار احمد اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے طلبہ کی مشترکہ درخواست پر وفاقی سیکریٹری داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے رجسٹرار سمیت متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 12 اکتوبر مقرر کی اور عبوری حکم میں کہا کہ درخواست گزاروں کو اس تاریخ تک ملک بدر نہ کیا جائے۔ عدالت نے مقدمہ ایک دوسرے افغان طالب علم کی اسی نوعیت کی درخواست کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت بھی کی۔
یہ عبوری عدالتی حکم ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔ طلبہ کے طویل مدتی امیگریشن یا تعلیمی حقوق کا حتمی تعین آئندہ سماعتوں اور عدالت کے فیصلے سے ہوگا۔
