کابل میں روسی سفارت خانے نے مشرقی افغانستان میں حالیہ فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی اطلاعات پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش ظاہر کی ہے۔
روسی سفارت خانے نے 23 ستمبر کو جاری بیان میں کسی ملک کا نام لیے بغیر تمام فریقوں سے کہا کہ وہ محاذ آرائی سے گریز کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ یہ اپیل 21 ستمبر کو کنڑ اور پکتیکا میں ہونے والے فضائی حملوں کے بعد سامنے آئی۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن یوناما نے کنڑ میں کم از کم تین شہریوں — ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی — کے جاں بحق ہونے اور چار افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔ شہری جانی نقصان کی یہ تفصیل رائٹرز نے بھی رپورٹ کی۔
پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ کارروائی میں افغانستان کے اندر تین اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور 28 ایسے افراد مارے گئے جنہیں پاکستانی حکام نے عسکریت پسند اور خودکش حملہ آور قرار دیا۔ افغان حکام نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے حملوں کی مذمت کی اور انہیں افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
دونوں جانب کے مؤقف اس وسیع تر اختلاف کی عکاسی کرتے ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کئی برس سے موجود ہے۔ اسلام آباد کا الزام ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہ پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں، جبکہ افغان حکام ایسے گروہوں کو پناہ دینے کے الزام کی تردید کرتے ہیں۔
روسی سفارت خانے کے بیان میں ذمہ داری طے کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا گیا اور فریقین سے کہا گیا کہ مزید محاذ آرائی سے بچتے ہوئے اختلافات کا حل مذاکرات میں تلاش کریں۔
