وزارت فواید عامہ اور منصوبے کے حکام کے مطابق دوسری کابل–جلال آباد شاہراہ کے 75 کلومیٹر سے زیادہ حصے پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ اس متبادل راستے کا مقصد موجودہ پہاڑی شاہراہ پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنا اور کابل سے مشرقی افغانستان تک ایک اضافی زمینی رابطہ فراہم کرنا ہے۔
نیا راستہ بگرامی سے شروع ہو کر کابل کے خاک جبار اور سروبی اضلاع سے گزرے گا اور پھر ننگرہار کے حصارک، شیرزاد، خوگیانی اور سرخ رود علاقوں تک جائے گا۔ منصوبے کے مختلف حصوں پر بیک وقت تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ زیر تعمیر حصوں کی تکمیل میں تقریباً مزید تین سال لگنے کی توقع ہے۔ پہاڑی جغرافیہ، بعض مقامات پر چٹانیں کاٹنے کی ضرورت اور سیلاب کا خطرہ بڑے انجینیئرنگ چیلنجوں میں شامل ہیں۔ مکمل ہونے کے بعد یہ شاہراہ مسافر گاڑیوں کے ساتھ مال بردار ٹریفک کے لیے بھی استعمال ہو سکے گی اور موجودہ کابل–جلال آباد راستے پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
