کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے ترجمان محمد خراسانی سے منسوب ایک تازہ بیان میں اس وائرل دستاویز کو جعلی قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تنظیم نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی PTI حکومت کی حمایت کی ہے۔
یہ وائرل دستاویز سوشل میڈیا پر صحافیوں اور دوسرے اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی گئی تھی اور اسے TTP کی جانب سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے حق میں سیاسی حمایت کے طور پر پیش کیا گیا۔ 30 ستمبر کو سامنے آنے والی تردید میں اس دستاویز کو جعلی قرار دیا گیا۔
تاہم Margalla News کو تازہ آزاد سرچ میں نہ تو وائرل دستاویز کی اصل TTP ذرائع سے مکمل قابلِ اعتماد توثیق ملی اور نہ ہی تردیدی دستاویز کی ایسی آزاد authentication دستیاب ہوئی جو اسے حتمی طور پر ثابت کرے۔ War Monitor نے بھی اپنے پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ اس نے متنازع دستاویز کی آزادانہ تصدیق نہیں کی۔
اس لیے خبر کو disputed document کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ موجودہ قابلِ رپورٹ بات یہ ہے کہ TTP سے منسوب تردیدی بیان وائرل حمایت نامے کو جعلی قرار دیتا ہے؛ یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا رہا کہ PTI یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا TTP سے کوئی ثابت شدہ سیاسی تعلق یا حمایت موجود ہے۔
سہیل آفریدی اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اور PTI کے نمایاں رہنما ہیں۔ ان کی صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر کھلی سیاسی اختلافات موجود رہے ہیں، مگر ان اختلافات یا ان کے سیاسی مؤقف کو کسی مسلح گروپ کی حمایت کے ثبوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
