امریکا بعض افغان تارکینِ وطن کو افغانستان واپس بھیجنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، یہ بات ایک امریکی اہلکار اور افغان انخلا سے متعلق امدادی تنظیموں نے روئٹرز کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں بتائی۔ امریکی محکمہ داخلی سلامتی نے عملی سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے مستقبل کی کسی ملک بدری کارروائی کی تصدیق نہیں کی۔ یہ ممکنہ منصوبے کی خبر ہے، مکمل ہوچکی ملک بدری کی نہیں۔
مجوزہ کارروائی کے بارے میں کیا معلوم ہے؟
روئٹرز کے مطابق ایک امریکی اہلکار اور سابق فوجیوں و افغان انخلا کے کارکنوں کی نمائندہ تنظیموں نے اس منصوبے کی تفصیل بتائی۔ ایک اہلکار کے مطابق افغانستان کے طالبان حکام کے ساتھ امریکا کے براہِ راست سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث کسی بھی منتقلی کے لیے پاکستان کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔
روئٹرز کے حوالے سے نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ 150 سے زیادہ افراد متاثر ہوسکتے ہیں اور لوزیانا میں درجنوں افغان شہری حراست میں ہیں۔ یہ رپورٹ شدہ اعدادوشمار ہیں، امریکی حکومت کی مصدقہ مسافروں کی فہرست نہیں۔ کارروائی کی تاریخ اور متاثرہ افراد کی حتمی تعداد غیر واضح ہے۔
امدادی تنظیموں کی تشویش کیوں ہے؟
افغان ایویک تنظیم کے شان وین ڈائیور کے مطابق بعض ممکنہ متاثرین 2021 میں طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان سے نکلے تھے، اور ان کے کچھ رشتہ داروں نے امریکی افواج کے ساتھ کام کیا تھا۔ تنظیموں کو خدشہ ہے کہ واپسی پر کچھ افراد کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ تاہم روئٹرز کی خبر میں ہر شخص کی الگ قانونی اور حفاظتی صورتحال کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وین ڈائیور نے امریکی قانون سازوں سے افغان شہریوں کے لیے عارضی تحفظ یافتہ حیثیت پر غور کی اپیل کی۔ ٹرمپ انتظامیہ اپنی سخت امیگریشن پالیسی کو سیکیورٹی کا اقدام قرار دیتی ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکن مناسب قانونی کارروائی سے متعلق خدشات اٹھاتے ہیں۔
ابھی کیا تصدیق نہیں ہوا؟
مذکورہ رپورٹ میں کسی مکمل ہونے والی پرواز، مصدقہ مسافر تعداد یا ہر فرد کے کیس کے آخری قانونی فیصلے کی اطلاع نہیں۔ محکمہ داخلی سلامتی نے مستقبل کی کارروائی کی تصدیق کرنے سے گریز کیا۔
