مواد پر جائیں
متنازع

نورستان واقعہ: افغانستان نے پاکستانی سفارتی نمائندے کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرا دیا

افغان وزارت خارجہ نے نورستان میں سرحد پار مسلح افراد کی مبینہ دراندازی پر پاکستانی سفارتی نمائندے کو طلب کیا؛ پاکستان متعلقہ الزامات مسترد کر چکا ہے۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

افغان وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفارتی نمائندے کو طلب کرکے نورستان کے حالیہ واقعے پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ وزارت کے مطابق داعش سے وابستہ اور دیگر مسلح عناصر نے ڈیورنڈ لائن عبور کرکے صوبہ نورستان کے ضلع کامدیش میں داخل ہونے کی کوشش کی۔

افغان وزارت خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ان عناصر کو پاکستانی فوجی حکام کی براہ راست معاونت اور رہنمائی حاصل تھی۔ وزارت نے اسے افغانستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں جاری رہیں تو ان کے نتائج کی ذمہ داری پاکستان پر ہوگی۔ یہ افغان حکومت کا الزام ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

پاکستان پہلے ہی نورستان سے متعلق افغان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر چکا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا تھا کہ افغان جانب نے پاکستانی اداروں کے ملوث ہونے کے ثبوت فراہم نہیں کیے اور پاکستان داعش یا دوسرے مسلح گروہوں کی سہولت کاری کے الزام کی تردید کرتا ہے۔

یہ سفارتی پیش رفت 27 ستمبر کو سامنے آنے والے نورستان واقعے کے بعد ہوئی ہے۔ افغان وزارت دفاع نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ 28 جنگجو مارے گئے اور 32 گرفتار کیے گئے، جن میں داعش سے وابستہ افراد بھی شامل تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے افغان دعوے اور پاکستان کی تردید دونوں رپورٹ کیے تھے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/afghanistan-summons-pakistan-diplomat-nuristan-2026-09-29?lang=ur

اگلا قدم

پاک افغان کی مزید خبریں

سیکشن کھولیں