بلوچ لبریشن آرمی (BLA) نے ایک نئے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ایک ہفتے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 21 کارروائیاں کیں جن میں 16 پاکستانی فوجی اہلکار اور چار ایسے افراد ہلاک ہوئے جنہیں گروپ نے ریاستی کارندے قرار دیا۔
یکم اکتوبر کو گروپ سے منسوب بیان شائع کرنے والے ایک بلوچ میڈیا ادارے کے مطابق BLA کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ کارروائیوں میں فوجی کیمپوں، قافلوں، شاہراہوں اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں بعض واقعات کے لیے مخصوص جانی نقصان کے دعوے بھی کیے گئے، تاہم مجموعی 20 ہلاکتوں کے اعداد کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی اور پاکستانی حکام نے اس مجموعی شمار کی عوامی توثیق نہیں کی۔
گروپ نے اپنے بیان میں پاکستانی ریاستی اداروں پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ BLA کو TTP اور دیگر مسلح تنظیموں کے ساتھ جوڑ کر پیش کر رہے ہیں۔ BLA نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ BRAS کے علاوہ اس کا کسی دوسری تنظیم کے ساتھ تنظیمی، نظریاتی یا عملی تعلق نہیں۔ یہ گروپ کا اپنا دعویٰ ہے۔
دوسری جانب پاکستانی انٹیلی جنس ذرائع نے حالیہ ہفتوں میں میڈیا کو دی گئی بریفنگز میں BLA، TTP، AQIS اور دیگر عناصر کے درمیان مبینہ روابط اور تعاون کے الزامات لگائے ہیں۔ ان الزامات کے بعض پہلو آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوئے، جبکہ متعلقہ فریق مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے دعووں کی تردید کرتے رہے ہیں۔
اس تازہ بیان کو BLA کے ہفتہ وار آپریشنل دعوے اور تنظیمی تعلقات سے متعلق اس کے مؤقف کے طور پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ 21 کارروائیوں، 16 فوجی اہلکاروں اور چار دیگر افراد کی ہلاکت کا مجموعی دعویٰ آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔

2.92.png)