مواد پر جائیں

جامعہ دارالعلوم کراچی کے اخراجات کیا بینکوں کے تعاون سے چلتے ہیں؟ مفتی تقی عثمانی کی وضاحت

مفتی محمد تقی عثمانی نے ان تاثر کی تردید کی کہ جامعہ دارالعلوم کراچی کی تعمیرات اور دیگر اخراجات بینکوں کی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں، اور ادارے کے مختلف مالی ذرائع کی وضاحت کی۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

1 منٹ مطالعہ

کراچی — مارگلہ نیوز: مفتی محمد تقی عثمانی نے جامعہ دارالعلوم کراچی کی تعمیرات اور مالی اخراجات سے متعلق پھیلنے والی اس رائے کی وضاحت کی ہے کہ ادارے کے بینکوں سے تعلقات کی وجہ سے اس کے اخراجات بینکوں کی آمدنی سے پورے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں اور دارالعلوم کے مختلف شعبوں اور تعمیرات کے لیے مختلف مالی ذرائع موجود ہیں۔

مفتی تقی عثمانی کے مطابق ادارے کی بعض دکانوں اور املاک کے کرایوں سے آمدنی حاصل ہوتی ہے، جبکہ مختلف مواقع پر اہلِ خیر بھی تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض بڑی عمارتیں مخصوص افراد کے تعاون سے تعمیر ہوئی ہیں؛ ایک عمارت ایک فرد نے مکمل بنوائی جبکہ دارالحدیث کی تعمیر میں چند افراد نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ جامعہ نے اپنے اکابر، بالخصوص مولانا محمد قاسم نانوتوی کے اس اصول کو پیشِ نظر رکھا ہے کہ دینی ادارے کا بنیادی بھروسا مستقل مالی ذرائع یا لوگوں سے چندہ مانگنے پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔

مفتی تقی عثمانی کے مطابق دارالعلوم کی جانب سے لوگوں سے شخصی طور پر رقم مانگنے کو معمول نہیں بنایا جاتا، تاہم ضرورت کے وقت اہلِ خیر خود تعاون کرتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جامعہ کے مالی معاملات کا باقاعدہ حساب رکھا جاتا ہے اور اخراجات و آمدن کا ریکارڈ موجود ہے۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کی سرکاری ویب سائٹ پر تعاون کے لیے میزان بینک اکاؤنٹ اور دیگر رابطہ معلومات بھی درج ہیں۔

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/darul-uloom-karachi-expenses-bank-funding-mufti-taqi-usmani-explanation-2026?lang=ur