مصنوعی ذہانت ایسے ڈیٹا مراکز میں چلتی ہے جہاں خصوصی سرور، میموری، نیٹ ورک آلات اور ٹھنڈا رکھنے کے نظام نصب ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت کو زیادہ بجلی چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ بجلی کے نظام اتنی تیزی سے نئی طلب پوری کر سکیں گے یا نہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2024 میں ڈیٹا مراکز نے تقریباً 415 ٹیراواٹ گھنٹے بجلی استعمال کی، جو عالمی کھپت کا قریب ڈیڑھ فیصد تھی۔ بنیادی اندازے میں 2030 تک یہ مقدار تقریباً 945 ٹیراواٹ گھنٹے ہو سکتی ہے، یعنی تقریباً دوگنی سے زیادہ اور عالمی بجلی کا قریب تین فیصد۔
اس تیز اضافے کا بڑا محرک مصنوعی ذہانت ہے۔ جدید سرور گرافکس پروسیسر اور دوسرے ایکسیلیریٹر استعمال کرتے ہیں جو روایتی سرور کے مقابلے میں ایک ہی جگہ پر کہیں زیادہ بجلی لیتے ہیں۔
بجلی ایک ہی ذریعے سے نہیں آئے گی۔ توانائی ایجنسی کے مطابق قابلِ تجدید ذرائع اضافی طلب کا بڑا حصہ پورا کریں گے، قدرتی گیس مستحکم پیداوار میں اہم رہے گی اور دہائی کے آخر میں جوہری توانائی کا کردار بھی بڑھ سکتا ہے۔
اصل مشکل مقامی ہے۔ ڈیٹا مرکز دو یا تین سال میں بن سکتا ہے، مگر نئی ٹرانسمیشن لائن اور بجلی گھر بنانے میں کہیں زیادہ وقت لگتا ہے۔ ایک ہی علاقے میں کئی بڑے مراکز مقامی گرڈ پر شدید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
اسی لیے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں طویل مدتی بجلی معاہدے، نئی قابلِ تجدید توانائی، گیس، جوہری اور جیو تھرمل منصوبے تلاش کر رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی دوڑ بھی بن رہی ہے۔
