پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ایک بار پھر شدید کشیدگی کے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔ ستمبر 2026 میں پاکستان کے اندر مہلک عسکری حملوں کے بعد پاکستانی کارروائیوں اور افغانستان کے اندر فضائی حملوں نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ افغان حکام نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اقوام متحدہ نے بعض حملوں میں شہری ہلاکتوں کی تصدیق بھی کی۔
اصل اختلاف سرحد پار موجود مسلح گروہوں پر ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک دھڑے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی یا معاونت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان اپنے اندرونی سکیورٹی مسائل کی ذمہ داری افغانستان پر ڈال رہا ہے۔
دوسرا بڑا مسئلہ سرحد کا ہے۔ پاکستان ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد سمجھتا ہے، جبکہ مختلف ادوار کی افغان حکومتیں اسے باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ یہ لکیر پشتون آبادی والے علاقوں سے گزرتی ہے، اس لیے باڑ لگانے، نئی چوکیوں اور آمدورفت کے معاملات بھی فوری طور پر سیاسی حساسیت اختیار کر لیتے ہیں۔
2021 میں طالبان کے دوبارہ کابل میں اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات کی نوعیت بھی بدل گئی۔ پاکستان کے افغان طالبان سے دیرینہ روابط رہے، لیکن تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں میں اضافے نے دونوں حکومتوں کے مفادات کو براہ راست ٹکراؤ میں ڈال دیا۔ مذاکرات اور جنگ بندیوں سے عارضی سکون تو آیا، مگر بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوا۔
اسی وجہ سے ایک واقعہ تیزی سے بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ پاکستان کے اندر حملہ سرحد پار کارروائی کے مطالبے کو بڑھاتا ہے، جبکہ افغانستان میں حملہ سفارتی احتجاج یا فوجی ردعمل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے اثرات تجارت، سرحدی گزرگاہوں اور مہاجرین کی نقل و حرکت تک پہنچتے ہیں۔
یہ صرف ایک تنازع نہیں بلکہ عسکریت پسندی، خودمختاری، متنازع سرحد، مہاجر پالیسی اور باہمی عدم اعتماد کا مجموعہ ہے۔ پائیدار کشیدگی میں کمی کے لیے صرف تازہ فائرنگ روکنا کافی نہیں ہوگا۔
