اسلام آباد، 13 اکتوبر 2026 — پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف مسلح حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور سفارتی تناؤ برقرار ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی 12 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ سرحد پار سرگرم عسکریت پسند گروہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ تحریک طالبان پاکستان سمیت بعض مسلح گروہوں کو افغانستان میں پناہ اور سرگرمیوں کے مواقع میسر ہیں۔
افغان طالبان حکومت پاکستانی الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسلام آباد پر مسئلے کو سیاسی رنگ دینے کا الزام عائد کیا ہے۔
دونوں فریقوں کے متضاد مؤقف کے باعث کسی غیر مصدقہ الزام کو حتمی حقیقت کے طور پر بیان کرنا درست نہیں۔ سرحدی سلامتی، قابلِ تصدیق اقدامات اور سفارتی رابطے آئندہ پیش رفت کے اہم پہلو ہوں گے۔
