پروان میں ایک مقامی باغبان نے وسطی ایشیا، روس اور یوکرین سے حاصل کی گئی تقریباً 50 انگور اقسام کی آزمائشی کاشت کی ہے۔ باغبان میر حمزہ کے مطابق کئی اقسام نے مقامی حالات میں اچھی ابتدائی پیداوار دی ہے اور ان میں بعض ایسی خصوصیات ہیں جو افغانستان میں عام طور پر اگائی جانے والی اقسام سے مختلف ہیں۔
میر حمزہ نے بتایا کہ انہوں نے مختلف ملکوں سے منتخب اقسام جمع کر کے پروان میں آزمائیں اور ابتدائی نتائج مثبت رہے۔ ان کے مطابق بہت سی اقسام میں بیج کم ہیں اور بعض تجارتی پیداوار کے لیے موزوں دکھائی دیتی ہیں۔ ایک دوسرے مقامی باغبان نے بھی ان میں سے کچھ اقسام اپنے باغ میں منتقل کی ہیں۔
ابتدائی کامیابی کے باوجود کسی نئی انگور قسم کی تجارتی افادیت صرف ایک موسم کی پیداوار سے طے نہیں ہوتی۔ پیداوار کی مقدار، پھل کا معیار، پکنے کا وقت، بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت، سردی اور گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت، پانی کی ضرورت اور مقامی منڈی میں قیمت کئی موسموں تک دیکھی جاتی ہے۔ اسی طرح ذخیرہ، ترسیل اور خشک انگور یا کشمش بنانے کی صلاحیت بھی تجارتی فیصلے میں اہم ہوتی ہے۔
پروان افغانستان کے معروف انگور پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ نئی اقسام اگر مسلسل بہتر کارکردگی دکھائیں تو باغبانوں کو فصل کے اوقات پھیلانے، مختلف ذائقوں اور معیار کی پیداوار پیش کرنے اور بعض منڈیوں کے لیے زیادہ موزوں پھل تیار کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم وسیع پیمانے پر کاشت سے پہلے زرعی تحقیق اور مقامی تجربات کی مزید ضرورت رہے گی۔
صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ کسانوں کو بہتر بیج، زرعی علاج اور دوسری فنی معاونت فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آنے والے موسموں میں ان آزمائشی اقسام کے نتائج اس بات کا بہتر اندازہ دیں گے کہ کون سی اقسام پروان کے باغات اور افغان منڈی کے لیے واقعی پائیدار ثابت ہو سکتی ہیں۔
