پاکستان اور افغانستان کی سرحدی عسکریت پسندی کی خبروں میں “طالبان”، “تحریک طالبان پاکستان” اور “حافظ گل بہادر” کے نام اکثر ایک ساتھ آتے ہیں، لیکن یہ الگ الگ تنظیمی کردار ہیں۔
افغان طالبان وہ تحریک ہے جو اگست 2021 میں دوبارہ افغانستان پر قابض ہوئی اور اب افغان ریاست اور اس کے سکیورٹی اداروں کو چلا رہی ہے۔ اس کا بنیادی سیاسی ہدف افغانستان میں اپنے تصورِ شریعت کے مطابق حکومت قائم کرنا رہا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان ایک الگ چھتری تنظیم ہے جو بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف مسلح جدوجہد پر مرکوز ہے۔ یہ 2007 میں مختلف پاکستانی عسکریت پسند دھڑوں کے اتحاد سے بنی۔ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان کے درمیان نظریاتی، تاریخی اور شخصی روابط موجود ہیں، لیکن ان کی قیادت الگ ہے اور سیاسی اہداف بھی یکساں نہیں۔
حافظ گل بہادر نیٹ ورک ایک اور پاکستان پر مرکوز مسلح گروہ ہے جس کی جڑیں شمالی وزیرستان میں ہیں۔ مختلف ادوار میں اس نے دوسرے گروہوں کے ساتھ تعاون بھی کیا، الگ بھی رہا اور بعض کارروائیوں میں مشترکہ صف بندی بھی کی۔ پاکستانی حکام حالیہ حملوں میں اس نیٹ ورک کا نام لیتے رہے ہیں، تاہم ہر حملے کی ذمہ داری الگ شواہد یا معتبر دعوے کی بنیاد پر طے کی جانی چاہیے۔
ان گروہوں کے تعلقات کو ذاتی، قبائلی اور نظریاتی روابط پیچیدہ بناتے ہیں۔ ایک ہی خطے میں لڑنے والے افراد کے درمیان رشتہ داری یا سابقہ جنگی تعلق ہو سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تمام گروہ ایک ہی کمانڈ کے تحت ہیں۔
آج کا سب سے بڑا سیاسی تنازع پاکستان کا یہ الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور اس کے اتحادی افغانستان میں پناہ گاہیں رکھتے ہیں۔ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔
مختصر فرق یہ ہے: افغان طالبان افغانستان پر حکومت کرتے ہیں، تحریک طالبان پاکستان پاکستانی ریاست کے خلاف مسلح چھتری تنظیم ہے، جبکہ حافظ گل بہادر نیٹ ورک اپنی الگ قیادت رکھنے والا پاکستان پر مرکوز مسلح گروہ ہے۔
