مواد پر جائیں
زیرِ پیش رفت

ہری پور: آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا نوجوانوں کے پولیس حراست میں جنسی تشدد کے الزامات

ہری پور میں آیت نور قتل کیس کے سلسلے میں گرفتار اور بعد ازاں ضمانت پر رہا ہونے والے تین کم عمر افراد سے منسوب بیانات میں پولیس حراست کے دوران جنسی تشدد اور بدسلوکی کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور پولیس کا تازہ مؤقف تاحال دستیاب نہیں۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

3 منٹ مطالعہ

ہری پور: آیت نور قتل کیس کے سلسلے میں گرفتار ہونے اور بعد ازاں ضمانت پر رہائی پانے والے تین کم عمر افراد سے منسوب بیانات میں پولیس حراست کے دوران مبینہ جنسی تشدد، جسمانی بدسلوکی اور دھمکیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات کو آئی بی سی اردو کی سوشل میڈیا پوسٹ میں رپورٹ کیا گیا ہے۔ مارگلہ نیوز کو فراہم کردہ اس پوسٹ کے عکس کے مطابق نوجوانوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حراست کے دوران ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا گیا۔

سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ واقعات ہری پور کے تھانہ ٹی آئی پی اور تھانہ صدر میں پیش آئے۔ نوجوانوں کی جانب سے مخصوص پولیس اہلکاروں اور افسران پر الزامات منسوب کیے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعلقہ پولیس افسر کے دفتر میں کارروائی کے لیے درخواست بھی دی گئی۔ تاہم درخواست کی باقاعدہ وصولی، آزاد طبی جانچ یا کسی سرکاری انکوائری کے ذریعے ان نئے الزامات کی تصدیق تاحال دستیاب نہیں؛ اس لیے انہیں الزام ہی سمجھا جائے، ثابت شدہ جرم نہیں۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اس مقدمے کے سلسلے میں زیرِ حراست کم عمر افراد کے ساتھ پولیس رویے پر سوال اٹھے ہوں۔ ہزارہ ایکسپریس نیوز نے 24 ستمبر کو رپورٹ کیا تھا کہ گرفتار نوجوانوں کے اہل خانہ نے مبینہ تشدد اور غیر انسانی سلوک کی شکایت کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اس پہلے سے سامنے آنے والے بیان میں بھی پولیس تشدد کے الزامات کی حتمی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ نے یکم اکتوبر 2026 کو آیت نور قتل کیس میں گرفتار تین افراد کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کی تھی۔ ایکسپریس ٹریبیون سمیت کئی اداروں کے مطابق عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی کا حکم دیا۔ دفاعی وکیل نے سماعت کے دوران کہا کہ پولیس کی دوبارہ تفتیش میں تینوں کے خلاف براہ راست شواہد کافی نہیں پائے گئے۔ ضمانت کا فیصلہ مقدمے میں بریت یا تمام الزامات پر حتمی عدالتی فیصلہ نہیں ہوتا۔

آیت نور کی ہلاکت کے اصل مقدمے میں بھی انصاف اور آزادانہ، شفاف تفتیش ضروری ہے۔ اگست میں ہری پور میں کمسن بچی کی لاش برآمد ہونے کے بعد مقدمے کی تفتیش اور کم عمر گرفتار افراد کے ساتھ مبینہ سلوک دونوں پر سوالات اٹھے تھے۔ قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی نے بھی اس مقدمے کی تفتیش کا جائزہ لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

پولیس حراست کے دوران جنسی تشدد کے حالیہ الزامات کے سلسلے میں متعلقہ پولیس حکام یا نامزد افسران کا تازہ تفصیلی جواب اور کسی آزاد طبی یا عدالتی انکوائری کا نتیجہ مارگلہ نیوز کے پاس دستیاب نہیں۔ اس بنا پر سوشل میڈیا پوسٹ میں نام لیے گئے اہلکاروں کے نام اس خبر میں دہرانے کے بجائے مرکزی توجہ کم عمر افراد کی حفاظت، الزامات کی آزادانہ جانچ اور قانون کے مطابق جواب دہی پر رکھی گئی ہے۔

ان الزامات کی سنگینی کے پیش نظر ضروری ہے کہ غیر جانبدار حکام شکایت کی وصولی اور ابتدائی جانچ کی صورت حال واضح کریں، ممکنہ طبی و فرانزک شواہد محفوظ کریں، متاثرہ افراد کی شناخت اور تحفظ کا خیال رکھیں، اور متعلقہ تمام فریقوں کو مؤقف دینے کا موقع فراہم کریں۔ اگر کوئی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے؛ اگر الزامات درست نہ پائے جائیں تو اس کی وجہ بھی شفاف طریقے سے بتائی جائے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/haripur-ayat-noor-case-bailed-minors-police-custody-abuse-allegations-2026-10-10?lang=ur