جنوری 2013 میں بلوچستان کا منظر سیاسی بحث سے کہیں زیادہ انسانی المیے کا منظر تھا۔ کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر دہشت گرد حملے میں بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے۔ لواحقین نے شدید سردی میں لاشوں کے ساتھ احتجاج کیا اور صوبائی حکومت کی سکیورٹی ناکامی کے خلاف آواز اٹھائی۔ اسی پس منظر میں وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ختم کرنے کا اعلان کیا۔
ڈان کی 13 جنوری 2013 کی رپورٹ کے مطابق وفاق نے آئین کے آرٹیکل 234 کا راستہ اختیار کیا اور گورنر کو صوبائی امور کا ذمہ دار بنانے کی بات کی۔ حکومتی مؤقف میں شہریوں کا تحفظ اور امن و امان بنیادی جواز تھے۔ اس وقت بہت سے شہریوں کے لیے مرکزی سوال یہی تھا کہ کیا نئے انتظام سے ان کی جان محفوظ ہوگی۔
کوئٹہ کے احتجاج میں اصل مطالبہ کیا تھا؟
بلوچستان کے 2013 کے بحران میں ہزارہ برادری کی تکلیف نے ریاستی انتظام کے بارے میں ایک نہایت بنیادی سوال اٹھایا: اگر شہری اپنے پیاروں کی لاشیں سامنے رکھ کر جان کے تحفظ کا مطالبہ کریں تو حکومتی جواب دہی کا قابلِ قبول معیار کیا ہونا چاہیے؟ یہ واقعہ محض آئینی شقوں کی مشق نہیں تھا۔ لوگوں کی روزمرہ سلامتی اور حکومت پر اعتماد اس کے مرکز میں تھے۔
اسی لیے اُس وقت کے گورنر راج کی حمایت اور مخالفت دونوں میں انسانی تحفظ کا سوال بار بار آتا تھا۔ بعض لوگوں نے اسے انتظامی ناکامی کے بعد ناگزیر قدم سمجھا، جبکہ دوسرے لوگوں کو خدشہ تھا کہ صوبائی حکومت کو ہٹا دینے سے خطرے کی اصل جڑیں باقی رہیں گی۔ دونوں زاویوں کو صرف سیاسی جماعتوں کے مفاد کی کشمکش قرار دینا متاثرہ شہریوں کے دکھ کو پس منظر میں ڈال دیتا ہے۔
صرف حکومت بدلنے سے نظام کیوں نہیں بدلتا؟
سکیورٹی ایک فرد یا ایک عہدے کا کام نہیں۔ انٹیلی جنس کی فراہمی، مقامی پولیس کی استعداد، تفتیش، پراسیکیوشن، سرحدی معاملات اور عوامی اعتماد ایک مشترکہ سلسلہ بناتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں کئی کڑیاں کمزور ہوں تو نئے انتظامی سربراہ سے فوری نتیجہ لینے کی توقع حد سے زیادہ سادہ ہوگی۔ 2013 کے بعد بھی بلوچستان میں سنگین حملوں کا ہونا اس پیچیدگی کی یاد دلاتا ہے۔
یہاں ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے: سکیورٹی پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ صرف گرفتاریاں یا کارروائیوں کی تعداد نہیں ہو سکتا۔ مقدمات کو عدالت تک پہنچانا، متاثرہ خاندانوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا اور اگلے حملے کی روک تھام ایسے نتائج ہیں جنہیں زیادہ دیر تک جانچنا پڑتا ہے۔
2026 کے لیے ایک محتاط مثال
خیبر پختونخوا 2026 کی حالت بلوچستان 2013 جیسی نہیں۔ اس لیے اس موازنے سے یہ پیش گوئی نہیں کی جا سکتی کہ نئے گورنر راج میں کون سا ادارہ کامیاب یا ناکام ہوگا۔ لیکن ایک تاریخی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے: کیا فیصلہ کرنے والوں نے انتظامی تبدیلی کے ساتھ ایسی عملی اصلاحات بھی تیار کی ہیں جن کے بغیر انسدادِ دہشت گردی کی کارکردگی بہتر بنانا دشوار ہو سکتا ہے؟
جو لوگ گورنر راج کی حمایت کرتے ہیں، انہیں سکیورٹی میں بہتری کے قابلِ پیمائش اہداف بتانے چاہییں۔ جو مخالفت کرتے ہیں، انہیں بھی ان شہریوں کے لیے متبادل انتظامی راستہ پیش کرنا چاہیے جن کے علاقوں میں عسکریت پسندی مسلسل جان لے رہی ہے۔ اس طرح بحث فریقین کے دفاع سے نکل کر متاثرہ لوگوں کے تحفظ تک پہنچ سکتی ہے۔
تاریخ کا اخلاقی تقاضا
کوئٹہ 2013 کی مثال لکھتے ہوئے ہزارہ برادری کی زندگیوں کو کسی موجودہ سیاسی دلیل کا محض اوزار نہیں بنانا چاہیے۔ وہ واقعات اپنی انسانی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی تاریخی تحقیق کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کا دکھ معتبر ماخذ کے مطابق بیان کرے، تعدادوں کی درست تصدیق کرے اور ہلاکتوں کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں تبدیل نہ کرے۔
گورنر راج کے بارے میں اس تاریخی کالم کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ انتظامی تبدیلی کو شہری تحفظ کے نتائج سے الگ کرکے نہیں جانچا جا سکتا۔ جس دن ریاست سلامتی کو محض حکومتی عہدوں کی تبدیلی سمجھنے لگے، اس دن شہریوں کے بنیادی سوال کا جواب ادھورا رہ جاتا ہے۔
اس فیصلے پر بھی دو الگ ردعمل سامنے آئے تھے۔ ایک نقطۂ نظر کے مطابق جب منتخب حکومت اپنے باشندوں کی سلامتی یقینی نہ بنا سکے تو انتظامی مداخلت ضروری بن جاتی ہے۔ دوسرا نقطۂ نظر یہ تھا کہ صرف کابینہ تبدیل کرنے سے ان اداروں کی کارکردگی بہتر نہیں ہو جاتی جنہیں دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ ڈان کے 2013 کے اداریے نے گورنر راج کو جمہوری نظام میں غیر معمولی تعطل قرار دیتے ہوئے بھی متاثرہ لوگوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔
اہم ترین تاریخی حقیقت یہ ہے کہ گورنر راج نافذ ہونے کے بعد بھی ہلاکت خیز دہشت گردی کا سلسلہ فوری طور پر ختم نہیں ہوا۔ ڈان میں 2014 میں شائع ایک جائزے کے مطابق فروری 2013 میں ہزارہ ٹاؤن میں ایک اور بڑے بم دھماکے نے بہت سی جانیں لیں۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انتظامی تبدیلی، سکیورٹی اداروں کی عملی کارکردگی اور خطرات کی نوعیت کو الگ الگ جانچنا چاہیے۔
اس تاریخی پس منظر کا خیبر پختونخوا کے 2026 کے فیصلے سے براہِ راست موازنہ محدود ہے۔ دونوں صوبوں کی سکیورٹی صورتِ حال، آبادی، سیاسی ترتیب اور مداخلت کی محرکات مختلف ہیں۔ 2013 کا واقعہ 2026 کی آئینی قانونی حیثیت کے حق یا مخالفت میں خودکار ثبوت فراہم نہیں کرتا۔
تاہم ایک مفید پیمانہ ضرور ملتا ہے: کیا جان و مال کا تحفظ بہتر ہوا، کیا تفتیش اور استغاثہ مضبوط ہوئے، اور کیا اداروں کو موثر جواب دہی کا پابند بنایا گیا؟ اگر یہ سوالات جواب طلب رہ جائیں تو کسی بھی ہنگامی انتظام کی کامیابی محض نام یا مدت سے ثابت نہیں ہوتی۔
بلوچستان 2013 کی تاریخ کو یاد رکھنے کا مقصد آج کے بحران میں انسانی تحفظ کو سیاسی نعروں سے الگ کر کے دیکھنا ہے۔
