خیبر: ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں سپیرہ روڈ پر فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں ابراہیم نامی ایک شخص کے ہلاک ہونے کی ابتدائی اطلاع سامنے آئی ہے۔ تاہم اس واقعے کی سرکاری یا آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی نہیں ہوسکی۔
علاقائی سلامتی کے واقعات کی نگرانی کرنے والے ادارے وار مانیٹر نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ فائرنگ کے تبادلے میں مبینہ طور پر پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور جمرود میں انسداد دہشت گردی سے متعلق اہلکار شامل تھے۔ رپورٹ میں ہلاک ہونے والے شخص کو مشتبہ عسکریت پسند قرار دیا گیا ہے، مگر اس کی کسی مسلح تنظیم سے وابستگی کے ثبوت سامنے نہیں آئے۔
ابتدائی اطلاع میں کارروائی کی درست تاریخ و وقت، فائرنگ شروع ہونے کی وجہ، دیگر ہلاکتوں یا زخمیوں اور جائے وقوعہ پر ملنے والے شواہد کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ جمرود پولیس یا متعلقہ انسداد دہشت گردی حکام کا اس مخصوص واقعے سے متعلق تصدیق شدہ بیان بھی دستیاب نہیں۔
واضح رہے کہ 9 اور 10 اکتوبر کو جمرود کے مختلف علاقوں میں پولیس اہلکاروں پر حملوں اور ہلاکتوں کی الگ خبریں شائع ہوئی ہیں۔ ان دوسرے واقعات کو سپیرہ روڈ کے اس مبینہ واقعے سے منسلک کرنا، یا انہیں اس کی تصدیق سمجھنا، فی الحال درست نہیں۔
واقعے کی نوعیت، ابراہیم نامی شخص کی شناخت و قانونی حیثیت اور مبینہ فائرنگ کے تبادلے کے حالات جاننے کے لیے پولیس ریکارڈ، متعلقہ اہلکاروں کے بیانات اور آزاد مقامی شواہد ضروری ہیں۔
ادارتی وضاحت: یہ ایک ذریعے سے موصول ابتدائی اور غیرمصدقہ اطلاع ہے۔ کسی شخص کو عسکریت پسند یا کسی کارروائی کو قانونی مقابلہ قرار دینا آزاد شواہد کے بغیر درست نہیں؛ مصدقہ معلومات سامنے آنے پر خبر میں مناسب تصحیح یا اضافہ کیا جائے گا۔
