مواد پر جائیں

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے امکان پر وفاقی وزیر کی نئی وارننگ، نفاذ کا اعلان نہیں

پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی میں تعاون نہ کرے تو وفاق ایمرجنسی کا آئینی راستہ اختیار کرسکتا ہے؛ ابھی کوئی باقاعدہ نفاذ نہیں ہوا۔

تحریر مارگلہ نیوز ڈیسک

شائع شدہ

تازہ کاری

1 منٹ مطالعہ

مارگلہ نیوز | 10 اکتوبر 2026

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی سے متعلق غور و خوض مکمل کر چکی ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

9 اکتوبر کی شب ایک ٹی وی پروگرام میں وزیر نے خبردار کیا کہ اگر صوبائی حکومت وفاق اور متعلقہ اداروں سے تعاون نہ کرے تو ایمرجنسی کا اختیار استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس سلسلے میں ہفتے کو حتمی فیصلہ کرنے والی کسی اعلیٰ سطحی ملاقات کی خبر کی تصدیق نہیں کی۔

اس معاملے میں وفاقی اور خیبر پختونخوا کی سیاسی قیادت کے مؤقف مختلف ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ امکان، سیاسی بیان اور آئینی طور پر ایمرجنسی نافذ ہونے کا نوٹیفکیشن الگ چیزیں ہیں؛ 10 اکتوبر کی اس رپورٹ کی تیاری تک نافذ ہونے کا کوئی مصدقہ اعلان سامنے نہیں آیا۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

  2. اپ ڈیٹ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-10-04-kp-emergency-federal-minister-remarks?lang=ur