عالمی ادارۂ صحت کی 12 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ماؤں اور نومولود بچوں کی اموات کا جائزہ لینے کے لیے اسپتالوں میں طبی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی مالی معاونت، عالمی ادارۂ صحت کی تکنیکی مدد اور افغان طبی اداروں کے تعاون سے یہ نظام مضبوط کیا گیا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2003 سے شروع ہونے والے متعلقہ کام کے دوران 900 سے زیادہ طبی کارکنوں اور منتظمین کو تربیت دی گئی، جبکہ 50 معاونت یافتہ اسپتالوں میں اموات کے واقعات کا جائزہ لیا گیا۔ جائزوں میں خون بہنا، شدید بلڈ پریشر، انفیکشن، قبل از وقت پیدائش اور آکسیجن کی کمی جیسے خطرات سامنے آئے۔
اس منصوبے کے ذریعے اسپتال مریضوں کو بروقت دوسرے مراکز منتقل کرنے، علاج کے طریقے بہتر بنانے اور زیادہ خطرے والی ماؤں اور بچوں کی دیکھ بھال مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں فوری طور پر اموات میں کسی متعین فیصد کمی کا دعویٰ نہیں کیا گیا۔
