عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ اور توانائی کی پیداوار، بحری تجارتی راستوں یا اہم تنصیبات میں مزید رکاوٹیں مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آئی ایم ایف کے مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور نے جمعرات کو بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پریس کانفرنس میں یہ بات کہی۔
جہاد ازعور کے مطابق آئی ایم ایف نے مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان (مینیپ) کے خطے کی معیشت میں 2026 کے دوران 1.3 فیصد سکڑاؤ کی پیش گوئی کی ہے، جبکہ 2025 میں اس خطے کی شرح نمو 3.3 فیصد رہی تھی۔ ان کے مطابق 2027 میں معیشت 6.6 فیصد کی مضبوط مگر غیر مساوی بحالی دکھا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی منظرنامے کا انحصار اس بات پر ہے کہ توانائی کی پیداوار اور تجارت کتنی جلد معمول پر آتی ہے اور ممالک معاشی استحکام کس حد تک برقرار رکھ پاتے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق ازعور نے کہا کہ جنگ سے پہلے کے مالی سرپلس، متبادل راستوں، طلب میں کمی اور ذخائر کے استعمال نے توانائی کے جھٹکے کا اثر محدود رکھا، مگر یہ سہارے محدود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ذخائر کم ہو چکے ہیں، اضافی پیداواری گنجائش تنگ ہے اور نئی رکاوٹ کی صورت میں قیمتوں میں کہیں بڑا ردوبدل ہو سکتا ہے۔ جنگ سے براہ راست متاثرہ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی معیشتیں 2026 میں نمایاں طور پر سکڑیں گی، جبکہ خطے کے تیل درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتیں اب تک سخت جان ثابت ہوئی ہیں اور توقع ہے کہ ایسی ہی رہیں گی۔ قفقاز اور وسطی ایشیا کی شرح نمو 2025 کے 6.2 فیصد سے کم ہو کر 2026 میں 5.2 فیصد اور 2027 میں 5 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔
الجزیرہ کے مطابق آئی ایم ایف نے منگل کو جاری عالمی اقتصادی جائزے میں کویت کی معیشت میں 16.7 فیصد، عراق میں 16 فیصد، قطر میں 15.6 فیصد، بحرین میں 11.3 فیصد، ایران میں 7.6 فیصد اور سعودی عرب میں 3.3 فیصد کمی کا تخمینہ لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں 2026 میں منفی شرح نمو متوقع ہے، جبکہ عالمی معیشت کی شرح نمو 3.1 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔
پاکستان کے حوالے سے ڈان کے مطابق آئی ایم ایف نے اسی جائزے میں مالی سال 2027 کے لیے پاکستان کی شرح نمو 3.5 فیصد اور مہنگائی 9.9 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ یہ اندازہ حکومت کے رواں مالی سال کے 4 فیصد ہدف اور عالمی بینک کی گزشتہ ماہ کی 3.8 فیصد کی پیش گوئی سے کم ہے۔ جہاد ازعور نے پالیسی سازوں پر زور دیا کہ وہ قیمتوں میں استحکام کو ترجیح دیں، مالی گنجائش دوبارہ بحال کریں اور مستقبل کے جھٹکوں سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھائیں۔
