نیویارک سٹی کے کمپٹرولر مارک لیون نے AI کمپنی Anthropic کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ کمپنی اپنی امریکی ابتدائی عوامی پیشکش (IPO) اس وقت تک موخر کرے جب تک وہ مصنوعی ذہانت کی سیفٹی، گورننس اور ترقی کی رفتار کے خدشات کو مکمل طور پر دور نہ کر لے۔
لیون نے لکھا کہ IPO کی جانب تیزی سے بڑھنے کے بجائے کمپنی کو ان غیر معمولی خطرات سے نمٹنے پر توجہ دینی چاہیے۔ رائٹرز کے مطابق خط کے مندرجات سب سے پہلے CNBC نے جمعرات کو رپورٹ کیے۔
Anthropic، جو Claude چیٹ بوٹ بناتی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق نومبر میں لسٹنگ کا ہدف رکھتی ہے اور اس کی مالیت 2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ کمپنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں ممکنہ سرمایہ کاروں کو بتایا کہ تیسری سہ ماہی کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کا تخمینہ 16.8 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ Anthropic نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست پر فوری جواب نہیں دیا۔
لیون نیویارک سٹی کے مالیات اور سرکاری پنشن فنڈز کی نگرانی کرتے ہیں، جن کے اثاثے 325 ارب ڈالر سے زیادہ ہیں۔ ان کے دفتر نے رائٹرز کو بتایا کہ پنشن فنڈز کو پرائیویٹ ایکویٹی ہولڈنگز کے ذریعے Anthropic میں مجموعی طور پر 70 لاکھ ڈالر کا ایکسپوژر ہے۔
کمپٹرولر نے کہا کہ Anthropic کی اپنی تحقیق نے تیزی سے خودمختار ہوتے AI ماڈلز سے خطرات کو اجاگر کیا ہے، جن میں کنٹرول شدہ ٹیسٹس میں نقصان دہ صلاحیتوں کا مظاہرہ بھی شامل ہے۔ یہ مداخلت ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے درمیان بڑھتی ہوئی بحث میں اضافہ کرتی ہے کہ AI سیکٹر میں خطرے کی قیمت کیسے لگائی جائے، جب اس کی بڑی کمپنیاں عوامی منڈیوں کی تیاری کر رہی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق Anthropic کی قریبی حریف OpenAI کی 2027 میں لسٹنگ متوقع ہے۔
