مواد پر جائیں
تصدیق شدہ

آبنائے ہرمز کے قریب نامعلوم میزائلوں سے نشانہ بننے والے دو بحری جہاز ڈوب گئے

سنگاپور کے پرچم بردار کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ اور اینٹیگوا و باربوڈا کے پرچم بردار بلک کیریئر کیپ ڈاؤ آبنائے ہرمز کے قریب ڈوب گئے ہیں۔ دونوں جہازوں کو الگ الگ واقعات میں نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔

شائع شدہ

2 منٹ مطالعہ

واٹس ایپایکس
18px
مزید
ای میل
WA
0%
مطالعہ

آبنائے ہرمز کے قریب گزشتہ 24 گھنٹوں میں دو تجارتی بحری جہاز ڈوب گئے ہیں جنہیں الگ الگ واقعات میں نامعلوم پروجیکٹائلز سے نشانہ بنایا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان میں ایک کنٹینر جہاز اور ایک خشک مال بردار جہاز شامل ہے۔

سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق سنگاپور میں رجسٹرڈ کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ کو 13 اکتوبر کو آبنائے سے گزرتے ہوئے نشانہ بنایا گیا جس سے جہاز کو نقصان پہنچا اور اس میں آگ لگ گئی، جس کے بعد وہ ڈوب گیا۔ اتھارٹی کے مطابق عملے کے تمام 21 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔ سنگاپور کا ایک اور کنٹینر جہاز جی ایف ایس جزیل 14 اکتوبر کو نشانہ بنا جس کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا، تاہم وہ اپنی طاقت سے محفوظ لنگر گاہ تک پہنچ گیا اور اس کا 22 رکنی عملہ محفوظ ہے۔

بی بی سی کے مطابق پاکستان کے ہائیڈروگرافر نے جہاز رانوں کو خبردار کیا کہ جی ایف ایس پرائیڈ عمان کے جزیرہ نما مسندم میں راس الشیخ مسعود سے تقریباً 4 ناٹیکل میل شمال مغرب میں ڈوبا ہے۔

روئٹرز کے مطابق اینٹیگوا و باربوڈا کے پرچم بردار بلک کیریئر کیپ ڈاؤ کو 23 ستمبر کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں عملے کا ایک رکن ہلاک ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یہ جہاز بھی آبنائے کے قریب ڈوب گیا ہے۔ روئٹرز کے تجزیے کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے ڈوبنے والے یہ دوسرے اور تیسرے جہاز ہیں۔

سنگاپور اتھارٹی نے ان حملوں کو بلااشتعال، ناقابل جواز اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کسی فریق نے فوری طور پر ان مخصوص حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ روئٹرز کے مطابق گزشتہ دس دنوں میں اس آبی گزرگاہ کے اردگرد حملوں میں تیزی آئی ہے اور ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور گزشتہ ماہ عائد سخت پابندیوں کے جواب میں حملے بڑھا رہا ہے۔ گارڈین کے مطابق برطانیہ کے ادارے یو کے ایم ٹی او نے 48 گھنٹوں میں کم از کم پانچ واقعات رپورٹ کیے۔

جنگ سے پہلے دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی تھی، اس لیے یہاں جہاز رانی کو لاحق خطرات کا براہ راست اثر عالمی توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔

خبر کی ٹائم لائن

اشاعت اور اپ ڈیٹ کی ٹائم لائن

  1. شائع

ذرائع اور تصدیق

متعلقہ ماخذ دیکھیںتصحیح کی پالیسی اور ریکارڈ

خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/mn-2026-10-15-two-ships-sink-strait-of-hormuz?lang=ur