ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ اگر امریکا ایران پر فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھا لے تو تہران آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ عہدیدار نے کہا کہ امریکا کو سفارتی حل کی خواہش کا باضابطہ اظہار کرنا ہوگا اور پھر عمل کے لیے وقت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں موجود ایرانی وفد کو سفارتی رابطوں کے لیے اختیار حاصل ہے۔ تاہم اس رپورٹ کے بعد ایرانی نیم سرکاری میڈیا میں تردید بھی سامنے آئی ہے، اس لیے اسے ایرانی حکومت کا طے شدہ اور حتمی فیصلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے اور حالیہ تنازع کے دوران یہاں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس پیش رفت کا درست مفہوم یہ ہے کہ ایک ایرانی عہدیدار نے مشروط آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ ایران کے اندر اس کی متضاد تشریحات موجود ہیں۔
خبر
ایرانی عہدیدار کا آبنائے ہرمز سات دن میں کھولنے کا مشروط دعویٰ، ایرانی میڈیا میں تردید
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز سے کہا کہ امریکا فوجی دباؤ کم کرے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اٹھائے تو آبنائے ہرمز سات دن میں کھولی جا سکتی ہے، تاہم ایرانی نیم سرکاری میڈیا میں اس رپورٹ کی تردید بھی سامنے آئی ہے۔
Margalla Newsدنیا
ایرانی عہدیدار کا آبنائے ہرمز سات دن میں کھولنے کا مشروط دعویٰ، ایرانی میڈیا میں تردید
پاکستان • افغانستان • خطہ
سیکشن اور موضوعات
ادارتی شفافیت
خبر کا لنک: https://margallanews.com/story/news-iran-hormuz-seven-days-official-claim-denial-2026-09-23?lang=ur
ماخذ: https://www.reuters.com/world/middle-east/iran-ready-reopen-strait-hormuz-if-us-eases-military-pressure-lifts-blockade-2026-09-22/


